LIVE
Loading Breaking News...

جيف بيزوس کا ليورپول فٹ بال کلب میں حصص کی خریداری کے لیے مذاکرات کا آغاز

News Image
برطانوی میڈیا کے مطابق ایمیزون کے بانی جيف بيزوس پر مشتمل ایک گروپ مشہور انگلش فٹ بال کلب ليورپول کا تقریباً تیس فیصد حصہ خریدنے کے لیے بات چیت کر رہا ہے۔ اس مجوزہ معاہدے سے کلب کی مالی پوزیشن مزید مستحکم ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اسپورٹس کی ایک رپورٹ کے مطابق، دنیا کے معروف ترین فٹ بال کلبوں میں سے ایک، لیورپول ایف سی (Liverpool FC) میں اہم سرمایہ کاری کے حوالے سے بات چیت میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ایمیزون کے بانی اور دنیا کے امیر ترین شخصیات میں شمار ہونے والے جیف بیزوس پر مشتمل ایک سرمایہ کار کنسورشيئم اس وقت کلب کے مالکان سے رابطے میں ہے اور وہ اس تاریخی فٹ بال کلب کا تقریباً تیس فیصد (30%) حصہ خریدنے کے لیے گہرے مذاکرات کر رہے ہیں۔ اگر یہ ڈیل طے پاتی ہے تو یہ فٹ بال کی دنیا کی سب سے بڑی اور اہم ترین کاروباری سرمایہ کاریوں میں سے ایک ہوگی، جو پریمیئر لیگ کے منظر نامے کو مکمل طور پر بدل کر رکھ سکتی ہے۔ لیورپول ایف سی فی الحال فین وے اسپورٹس گروپ (Fenway Sports Group) کی ملکیت میں ہے، جو اس سے قبل بھی کلب کے لیے بیرونی سرمایہ کاری حاصل کرنے کے اشارے دے چکا ہے۔ جیف بیزوس کے اس کنسورشيئم کی شمولیت سے کلب کو نہ صرف بین الاقوامی سطح پر مالی استحکام ملے گا بلکہ جدید ترین انفراسٹرکچر، کھلاڑیوں کی منتقلی کے بازار میں بڑی خریداری اور عالمی مارکیٹ میں برانڈ کی ترویج کے لیے لامحدود مواقع فراہم ہوں گے۔ فٹ بال کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس قسم کی بڑی سرمایہ کاری سے لیورپول کا شمار دنیا کے مالی لحاظ سے سب سے طاقتور کلبوں میں ہو جائے گا، جس سے وہ گھریلو اور یورپی مقابلوں میں اپنی برتری کو مزید مستحکم کر سکیں گے۔ تاہم، دونوں فریقین کے درمیان تاحال کسی حتمی معاہدے پر دستخط نہیں ہوئے ہیں اور مذاکرات کا سلسلہ حتمی مراحل میں داخل ہو رہا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اس ڈیل کے قانونی، مالی اور ریگولیٹری پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے، جس میں انگلش پریمیئر لیگ کے سخت مالکانہ قوانین کی پاسداری بھی شامل ہے۔ لیورپول کے کروڑوں شائقین دنیا بھر میں اس پیش رفت کو بڑی امید اور تجسس کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں کیونکہ اس سے کلب کے مستقبل کی سمت کا تعین ہوگا۔ آنے والے چند ہفتوں میں اس بات کا واضح امکان ہے کہ اس مجوزہ شراکت داری کے حوالے سے کوئی حتمی اعلان سامنے آ جائے گا۔