LIVE
Loading Breaking News...

کتوں کے ساتھ انسانی رویے اور مسکراہٹ پر نئی سائنسی تحقیق

News Image
نئی سائنسی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ انسانی مسکراہٹ یا غصے کے تاثرات کا کتوں کے دماغ پر گہرا اثر پڑتا ہے۔ ماہرین نے اس بات کا پتہ لگایا ہے کہ جب انسان اپنے پالتو جانوروں کو دیکھ کر مسکراتے ہیں تو ان کے دماغ میں کیا ردعمل ہوتا ہے۔
سائنسدانوں نے حال ہی میں ایک نہایت دلچسپ تحقیق کے ذریعے اس راز سے پردہ اٹھایا ہے کہ جب انسان اپنے پالتو کتوں کو دیکھ کر مسکراتے ہیں یا چہرہ بگاڑتے ہیں، تو ان کے کتوں کے دماغ کے اندر اصل میں کیا ردعمل ہوتا ہے۔ اس تحقیق نے انسان اور کتے کے درمیان پائے جانے والے تعلق کو سمجھنے کے لیے ایک نیا نکتہ فراہم کیا ہے، کیونکہ کتے صدیوں سے انسانوں کے سب سے قریب ترین ساتھی مانے جاتے ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ کتے انسانوں کے چہرے کے تاثرات کو بہت گہرائی سے پڑھ سکتے ہیں۔ جب کوئی انسان اپنے کتے کی طرف دیکھ کر مسکراتا ہے، تو اس کے دماغ کے وہ حصے متحرک ہو جاتے ہیں جو خوشی، اطمینان اور باہمی تعلق سے جڑے ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس، جب چہرے پر غصے یا ناپسندیدگی کے تاثرات ہوں، تو کتوں کا دماغ ہوشیار ہو جاتا ہے اور وہ خطرے کا احساس کرتے ہوئے مختلف کیمیائی تبدیلیاں ظاہر کرتا ہے۔ اس مطالعے سے یہ بھی پتا چلا ہے کہ کتے نہ صرف انسانی الفاظ کی آواز کو سمجھتے ہیں بلکہ وہ بصری اشاروں بالخصوص چہرے کے تاثرات کو بھی اپنے اندر جذب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس تحقیق کے نتائج اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ پالتو جانوروں کے ساتھ دوستانہ اور مثبت رویہ رکھنا ان کی ذہنی صحت اور خوشی کے لیے کتنا ضروری ہے۔ جب ہم اپنے کتوں کو دیکھ کر مسکراتے ہیں، تو دراصل ہم ان کے ساتھ اپنے جذباتی بندھن کو مزید مضبوط کر رہے ہوتے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کی تحقیقات مستقبل میں جانوروں کی فلاح و بہبود اور انسانوں کے ساتھ ان کے تعلقات کو مزید بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔ اس سے ہمیں یہ سیکھنے کا موقع ملتا ہے کہ ہمارے روزمرہ کے چھوٹے چھوٹے تاثرات اور مسکراہٹیں ہمارے وفادار ساتھیوں کی دنیا پر کتنا گہرا اثر ڈالتی ہیں۔