LIVE
Loading Breaking News...

آبنائے ہرمز میں کشیدگی اور خلیجی ممالک کی نئی سیکیورٹی حکمت عملی

News Image
آبنائے ہرمز میں تزویراتی برتری حاصل کرنے کے بعد ایران کے پڑوسی ممالک نے خطے کی سلامتی کے اصولوں میں تبدیلیاں شروع کر دی ہیں۔ خلیجی ریاستیں تہران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کے لیے نئے دفاعی اور سفارتی اقدامات کر رہی ہیں۔
آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں شمار ہوتا ہے۔ حالیہ برسوں کے دوران ایران نے اس اہم گزرگاہ پر اپنے تزویراتی اثر و رسوخ اور پوزیشن کو نمایاں طور پر مستحکم کیا ہے، جس سے خطے میں ایران کے سیاسی اور عسکری دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔ تہران کی جانب سے اس سمندری راستے پر حاصل ہونے والی اس برتری نے خلیجی خطے کی روایتی حرکیات کو بدل کر رکھ دیا ہے اور عالمی طاقتوں کی توجہ بھی اس جانب مبذول کروائی ہے۔ تاہم، ایران کے ان اقدامات کے جواب میں خلیجی ریاستوں اور خطے کے دیگر ممالک نے ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھنے کے بجائے اپنی سلامتی کے اصولوں کو از سر نو تشکیل دینا شروع کر دیا ہے۔ خلیجی ممالک نے اجتماعی سلامتی، سمندری نگرانی اور دفاعی تعاون کے نئے لائحہ عمل تیار کیے ہیں تاکہ ایران کی طرف سے پیدا ہونے والے ممکنہ خطرات کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کیا جا سکے۔ اس نئی حکمت عملی کا بنیادی مقصد آبنائے ہرمز میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنا اور تہران کے ممکنہ یکطرفہ اقدامات کے اثرات کو محدود کرنا ہے۔ ماہرین کے مطابق، خلیجی خطے میں سیکیورٹی کے یہ نئے اصول خطے کی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کی نشان دہی کرتے ہیں۔ ایک طرف جہاں ایران اپنے عسکری و تزویراتی فوائد کو برقرار رکھنے کے لیے کوشاں ہے، وہیں دوسری طرف پڑوسی ممالک کی یہ جوابی سفارتی اور دفاعی کوششیں خطے میں طاقت کے روایتی ڈھانچے کو چیلنج کر رہی ہیں۔ اس صورتحال نے خلیج فارس میں ایک نئے سٹریٹجک مقابلے کو جنم دیا ہے جس کے آنے والے دنوں میں خطے اور دنیا بھر پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔