World
نیتنیاہو کا غزہ پلان مسترد کرنے کا اقدام اور لامتناہی جنگ کا خطرہ
اسرائیلی رہنما کی جانب سے امریکہ کی حمایت یافتہ روڈ میپ کی مخالفت نے خطے میں تنازع کے طویل تر ہونے کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ رویہ مستقل امن کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتنیاہو کی جانب سے امریکہ کی قیادت میں پیش کیے جانے والے غزہ کے امن روڈ میپ کو مسترد کرنے کے فیصلے کے بعد مشرق وسطیٰ میں ایک نئے اور طویل تنازع کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ بین الاقوامی امور کے ماہرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی قیادت کا یہ سخت موقف نہ صرف خطے میں جاری کشیدگی کو مزید ہوا دے گا بلکہ اس سے تنازع کے ختم ہونے کی امیدیں بھی دم توڑتی نظر آ رہی ہیں۔ امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کافی عرصے سے اس بات کی کوشش کر رہے تھے کہ جنگ بندی کا کوئی ایسا قابلِ عمل راستہ نکالا جائے جس سے تمام فریقین کو مطمئن کیا جا سکے لیکن اسرائیلی حکومت کے اصرار نے اس سفارتی پیشرفت کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔
امریکہ کی جانب سے پیش کردہ روڈ میپ کا مقصد غزہ میں فوری طور پر جنگ کے خاتمے، انسانی امداد کی فراہمی اور پائیدار امن کی طرف منتقلی کا لائحہ عمل تیار کرنا تھا۔ تاہم، نیتنیاہو حکومت نے اس منصوبے کے کئی بنیادی نکات کو ماننے سے انکار کر دیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل اس تنازع کو اپنے طے شدہ فوجی اہداف کے حصول تک جاری رکھنا چاہتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اس قسم کا رویہ ناصرف اسرائیل اور اس کے بین الاقوامی اتحادیوں کے درمیان تعلقات کو کشیدہ کر رہا ہے بلکہ اس سے زمینی حقائق کو بھی مزید پیچیدہ بنایا جا رہا ہے، جہاں عام شہریوں کو ناقابلِ تلافی نقصانات کا سامنا ہے۔
اس صورتحال کے تسلسل سے یہ خدشات بھی گہرے ہو رہے ہیں کہ غزہ کی جنگ اب ایک لامتناہی دلدل میں تبدیل ہوتی جا رہی ہے جس کا کوئی واضح سیاسی حل دکھائی نہیں دیتا۔ جب تک فریقین ایک دوسرے کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے اور لچک دکھانے کے لیے تیار نہیں ہوتے، اس وقت تک مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کا خواب شرمندہ تعبیر ہونا ناممکن نظر آتا ہے۔ عالمی برادری بالخصوص اقوام متحدہ اور علاقائی طاقتوں پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ اس بحران کو مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے فوری اور مؤثر سفارتی اقدامات کریں تاکہ خطے کو ایک اور بڑی تباہی سے بچایا جا سکے۔