LIVE
Loading Breaking News...

کم چکنائی والی ڈیری مصنوعات صحت کے لیے نقصان دہ کیوں؟

News Image
برसों تک یہ سمجھا جاتا رہا کہ موٹاپے پر قابو پانے کے لیے کم چکنائی والی ڈیری مصنوعات بہترین انتخاب ہیں۔ تاہم، نئی طبی تحقیقات نے اس روایتی طبی سوچ پر سوالات اٹھانا شروع کر دیے ہیں۔
برसों سے صحت کے ماہرین اور غذائی مشیر اس بات پر زور دیتے آئے ہیں کہ اگر آپ اپنے وزن کو کنٹرول میں رکھنا چاہتے ہیں یا موٹاپے سے بچنا چاہتے ہیں، تو آپ کو اپنی خوراک میں کم چکنائی والی یعنی لو فیٹ ڈیری مصنوعات کا استعمال کرنا چاہیے۔ اس نظریے کے تحت دنیا بھر میں لاکھوں افراد نے فل کریم دودھ، مکھن اور دہی کا استعمال چھوڑ کر کم چکنائی والے متبادل اپنانے شروع کر دیے تھے تاکہ جسم میں کیلوریز اور چربی کی مقدار کو کم کیا جا سکے۔ تاہم، حالیہ عرصے میں سامنے آنے والی نئی طبی تحقیقات نے اس روایتی اور پرانے تصور کو یکسر چیلنج کر دیا ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ کم چکنائی والی ڈیری مصنوعات کے فوائد کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے اور حقیقت اس کے برعکس ہو سکتی ہے۔ نئی سائنسی رپورٹس کے مطابق، قدرتی چکنائی سے بھرپور ڈیری مصنوعات انسان کو زیادہ دیر تک سیر رکھتی ہیں، جس کی وجہ سے بار بار بھوک نہیں لگتی اور مجموعی طور پر کم کیلوریز استعمال ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ، کم چکنائی والی مصنوعات میں اکثر ذائقہ کو بہتر بنانے کے لیے اضافی شکر اور مصنوعی اجزا شامل کیے جاتے ہیں، جو جسم کے لیے چکنائی کے مقابلے میں زیادہ نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ دودھ اور دیگر ڈیری اشیاء میں پائی جانے والی قدرتی چکنائی دل کی صحت اور میٹابولزم کے لیے اتنی خطرناک نہیں ہے جتنا کہ ماضی میں سمجھا جاتا تھا۔ اس تمام نئی بحث کے بعد غذائی ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ عوام کو کسی بھی خوراک کو اندھا دھند اپنانے کے بجائے متوازن غذا پر توجہ دینی چاہیے۔ اگرچہ اعتدال ہر چیز میں ضروری ہے، لیکن کم چکنائی والی مصنوعات کو لازمی طور پر صحت کا ضامن سمجھنے کا نظریہ اب تبدیلی کے دہانے پر ہے۔ محققین مزید مطالعے جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ یہ واضح کیا جا سکے کہ انسانی جسم پر مختلف قسم کی ڈیری مصنوعات کے طویل المدتی اثرات کیا ہوتے ہیں۔