Politics
نایجل فاریج کا برطانوی جیلوں سے غیر ملکی مجرموں کی ملک بدری کا عزم
برطانوی سیاست دان نایجل فاریج نے برطانوی جیلوں میں بند تمام غیر ملکی مجرموں کو فوری طور پر ملک بدر کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ملکی جیلوں پر بوجھ کم ہوگا اور عوام کی سلامتی کو یقینی بنایا جاسکے گا۔
برطانوی سیاست دان اور ریفارم یو کے پارٹی کے رہنما نایجل فاریج نے حال ہی میں ایک اہم پالیسی بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے برطانوی جیلوں میں سزا کاٹنے والے تمام غیر ملکی مجرموں کو فوری طور پر ان کے آبائی ممالک میں ملک بدر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ برطانوی جیلیں پہلے ہی شدید نوعیت کے خلل اور گنجائش کے بحران کا شکار ہیں، اور غیر ملکی مجرموں پر عوامی فنڈز کا خرچ کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں ہے۔
اپنے خطاب اور بیانات میں نایجل فاریج نے زور دیا کہ برطانوی عوام کے ٹیکس کا پیسہ غیر ملکی قانون شکنوں کی خوراک اور رہائش پر خرچ نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ نظام مجرموں کے خلاف سخت اور فیصلہ کن کارروائی کرنے میں ناکام رہا ہے، جس کی وجہ سے ملکی امن و امان کو خطرات لاحق ہیں۔ ان کے اس اعلان کو سیاسی حلقوں میں خاصی پذیرائی حاصل ہو رہی ہے اور تارکین وطن سے متعلق پالیسیوں پر بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق برطانوی نظامِ عدل اس وقت متعدد چیلنجز سے گزر رہا ہے جن میں جیلوں میں قیدیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد سرفہرست ہے۔ اگر غیر ملکی مجرموں کو ان کے اپنے ممالک میں واپس بھیج دیا جائے تو اس سے نہ صرف جیلوں میں جگہ خالی ہوگی بلکہ حکومتی خزانے پر پڑنے والا مالی بوجھ بھی کافی حد تک کم ہو سکتا ہے۔ تاہم، انسانی حقوق کی تنظیموں اور قانونی ماہرین نے اس تجویز پر کچھ تحفظات کا اظہار بھی کیا ہے اور بین الاقوامی قوانین کے تحت منصفانہ کارروائی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
آنے والے دنوں میں نایجل فاریج کا یہ مؤقف برطانوی سیاست میں ایک گرم موضوع بنا رہے گا کیونکہ ملک میں عام انتخابات کے بعد سے امیگریشن اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اصلاحات پر بحث زور و شور سے جاری ہے۔ عوام کی ایک بڑی تعداد سخت فیصلوں کی حامی دکھائی دیتی ہے، جب کہ سیاسی جماعتیں اس حساس معاملے پر متفقہ لائحہ عمل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔