LIVE
Loading Breaking News...

کرناٹک اے آئی ٹاؤن شپ اور بیدادی زمین کا تنازعہ

News Image
کرناٹک کے نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیو کمار نے بیدادی کے قریب مجوزہ اے آئی ٹاؤن شپ کے لیے زمین مالکان کو فی ایکڑ تین کروڑ روپے یا ترقی یافتہ پلاٹس دینے کی پیشکش کی ہے۔ دوسری جانب جے ڈی ایس اور بی جے پی نے اس منصوبے کے خلاف تین روزہ احتجاجی مارچ کا آغاز کر دیا ہے۔
کرناٹک کے نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیو کمار نے بیدادی کے قریب مجوزہ مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی ٹاؤن شپ کے تنازعے کے درمیان زمین کے مالکان کو ایک پرکشش پیشکش کی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا ہے کہ حکومت زمین مالکان کو فی ایکڑ تین کروڑ روپے یا اس سے زائد رقم ادا کرے گی، یا پھر حاصل کی گئی زمین کا پچاس فیصد حصہ ترقی یافتہ پلاٹس کی شکل میں واپس دیا جائے گا۔ حکومت کا موقف ہے کہ اس اقدام کا مقصد کسانوں اور زمین مالکان کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے تاکہ خطے میں جدید ٹیکنالوجی کے اس بڑے منصوبے کو بلا تعطل آگے بڑھایا جا سکے۔ حکومت کو امید ہے کہ اس پیشکش سے زمین کے حصول میں حائل رکاوٹیں دور ہو جائیں گی۔ دوسری جانب اس منصوبے کو لے کر سیاسی محاذ آرائی بھی شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ جنتا دل سیکیونسٹ اور بھارتیہ جنتا پارٹی نے اس مجوزہ اے آئی ٹاؤن شپ کے خلاف ایک سخت مؤقف اپناتے ہوئے تین روزہ احتجاجی پیدل مارچ یعنی پدیاترا کا آغاز کر دیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا الزام ہے کہ حکومت زبردستی زمینیں ہتھیانے کی کوشش کر رہی ہے اور اس منصوبے سے مقامی آبادی اور کسانوں کے حقوق متاثر ہوں گے۔ اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ حکومت کو اس پروجیکٹ کو آگے بڑھانے سے پہلے تمام فریقین بالخصوص مقامی کسانوں کو اعتماد میں لینا چاہئے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ تنازعہ مزید سنگین ہو سکتا ہے کیونکہ حکمران جماعت اور اپوزیشن دونوں ہی اس معاملے پر پیچھے ہٹنے کو تیار نظر نہیں آتیں۔ ریاستی حکومت کا اصرار ہے کہ یہ منصوبہ ریاست میں ٹیکنالوجی کے شعبے کو فروغ دینے اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے لاکھوں نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے کی جانے والی اس مالی پیشکش کے بعد کسان اور اپوزیشن جماعتیں اپنا احتجاج جاری رکھتی ہیں یا اس معاملے پر کوئی نیا رخ سامنے آتا ہے۔