LIVE
Loading Breaking News...

الگورتھم اور وزیراعظم: ٹیک پلیٹ فارمز سے احتساب اور شفافیت کا مطالبہ

News Image
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی سوشل میڈیا پوسٹ کا حذف ہونا بڑے ٹیک پلیٹ فارمز پر شفافیت اور قانون پر عملدرآمد کے فقدان کو ظاہر کرتا ہے۔ اس واقعے نے ڈیجیٹل دنیا میں مواد کی اعتدال پسندی اور الگورتھم کے اختیارات پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا کے بڑے پلیٹ فارمز کے طریقہ کار اور ان کے اندرونی الگورتھمز پر دنیا بھر میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی ایک سوشل میڈیا پوسٹ کے حذف ہونے کے واقعے نے اس بحث کو مزید ہوا دی ہے کہ آیا یہ ڈیجیٹل ادارے کسی بھی قسم کی جوابدہی سے بالاتر ہیں۔ اس نوعیت کے واقعات اس بات کو اجاگر کرتے ہیں کہ کس طرح طاقتور ٹیکنالوجی کمپنیاں بغیر کسی شفاف عمل یا پیشگی اطلاع کے اہم ترین شخصیات کے مواد کو بھی متاثر کر سکتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق دنیا بھر میں کنٹینٹ ماڈریشن یا مواد کی جانچ پڑتال کے عمل میں سخت شفافیت اور مقررہ قوانین کی ضرورت ہے۔ جب تک پلیٹ فارمز اپنے فیصلوں کے پیچھے موجود وجوہات کو واضح نہیں کرتے اور متاثرہ فریق کو اپیل کا حق نہیں دیتے، اس وقت تک ڈیجیٹل اسپیس میں عام صارفین کے حقوق کا تحفظ بھی خطرے میں رہے گا۔ موجودہ صورتحال نے پالیسی سازوں کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کے خلاف سخت ضابطے مرتب کریں تاکہ من مانی پابندیوں کا سلسلہ روکا جا سکے۔ اس تنازعے کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ جمہوریت اور آزادی اظہار رائے کے نام پر کام کرنے والے یہ پلیٹ فارمز خود کتنے غیر جانبدار ہیں۔ اگر عالمی سطح پر رہنماؤں کے ساتھ ایسا برتاؤ کیا جا سکتا ہے تو عام شہریوں کی حالت کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکومتیں اور سول سوسائٹی مل کر ایک ایسا لائحہ عمل تیار کریں جس کے تحت ڈیجیٹل اجارہ داریوں کو قانون کے دائرے میں لایا جا سکے اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔