Pakistan
اسلام آباد ہائی کورٹ کا وزیراعظم کی ایڈوائس اور عدلیہ تقرریوں پر سخت نوٹس
اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیراعظم کی ایڈوائس کو طویل عرصے تک زیر التواء رکھنے کے معاملے پر حکام سے وضاحت طلب کر لی ہے۔ عدالت نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اس نوعیت کی تاخیر سے عدالتی نظام اور حکومتی امور پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے عدلیہ میں تقرریوں کے معاملے پر وزیراعظم کی ایڈوائس کو طویل عرصے تک زیر التواء رکھنے کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے تفصیلی جواب طلب کر لیا ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ آئینی تقاضوں کے مطابق وزیرِاعظم کی طرف سے دی جانے والی ایڈوائس پر وقت پر عملدرآمد نہ ہونے سے نہ صرف انتظامی امور میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے بلکہ اس کے عدالتی نظام پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ سماعت کے دوران معزز جج نے اس بات پر زور دیا کہ ریاست کے اہم ترین اداروں کے مابین اس قسم کی تاخیر سے نظامِ عدل کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے اور عوامی اعتماد کو بھی ٹھیس پہنچتی ہے۔ عدالت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ وہ عدالت کو مطمئن کریں کہ وزیراعظم کی ایڈوائس کو تاخیر کا شکار کرنے کے قانونی اور انتظامی مضمرات کیا ہیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق عدلیہ میں تقرریوں کا عمل انتہائی حساس نوعیت کا ہوتا ہے اور اس میں کسی بھی قسم کی غیر ضروری تاخیر آئینی بحران کو جنم دے سکتی ہے۔ عدالت کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کے بعد حکومتی حلقوں میں بھی اس معاملے پر ہلچل مچ گئی ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ اس کیس کے ذریعے مستقبل کے لیے ایک واضح لائحہ عمل طے کیا جائے گا تاکہ تقرریوں کے عمل کو شفاف اور بروقت بنایا جا سکے۔