LIVE
Loading Breaking News...

نیتنیاہو اور ٹرمپ کا غزہ امن منصوبہ: پس منظر اور تجزیہ

News Image
امریکی انتظامیہ کا ماننا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم کا غزہ امن منصوبے پر ردعمل محض انتخابی بیان بازی ہے۔ امریکی حکام اس مسترد کرنے کو آخری بات نہیں سمجھ رہے ہیں۔
واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان سفارتی حلقوں میں یہ بحث جاری ہے کہ آیا اسرائیلی وزیر اعظم کا حالیہ بیان حتمی حیثیت رکھتا ہے یا نہیں۔ اطلاعات کے مطابق امریکی انتظامیہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتنیاہو کی جانب سے ٹرمپ کے مجوزہ 15 نکاتی غزہ امن منصوبے کو مسترد کیے جانے سے بالکل بھی پریشان نہیں ہے۔ امریکی حکام کا خیال ہے کہ یہ بیان بازی صرف اور صرف ایک عام انتخابات سے قبل کی انتخابی حکمت عملی ہے جس کا مقصد ملکی سطح پر سیاسی حمایت حاصل کرنا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور امریکہ کے مابین پردے کے پیچھے بات چیت مسلسل جاری ہے اور اس نوعیت کے بیانات کو زمینی حقائق کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ امریکی انتظامیہ کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ واشنگٹن اب بھی اس امن منصوبے پر عمل درآمد کے لیے پرامید ہے اور اس کا ماننا ہے کہ انتخابی عمل مکمل ہونے کے بعد صورتحال میں تبدیلی آ سکتی ہے۔ دوسری جانب بین الاقوامی برادری اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے کیونکہ غزہ میں جاری انسانی بحران کے خاتمے کے لیے کسی بھی امن کوشش کی کامیابی انتہائی اہم ہے۔ یہ دیکھنا باقی ہے کہ آنے والے دنوں میں دونوں رہنما اس حساس معاملے پر کیا لائحہ عمل اختیار کرتے ہیں، تاہم فی الحال امریکی حکومت اسے حتمی مسترد شدگی تسلیم کرنے سے گریزاں ہے۔