LIVE
Loading Breaking News...

امریکی سیاست اور عبدالسید کے خلاف ڈیجیٹل مہم کا احوال

News Image
مشی گن میں سینیٹ کے پرائمری الیکشن میں کامیابی کے بعد مصری نژاد امریکی ڈاکٹر عبدالسید کو ایک منظم ڈیجیٹل مہم کا سامنا کرنا پڑا۔ اس مہم کے دوران امریکی انتہائی دائیں بازو کے حلقوں کی طرف سے اسلامی اصطلاحات کو منفی رنگ دے کر استعمال کیا گیا۔
امریکہ کی ریاست مشی گن میں سینیٹ کے پرائمری انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے والے مصری نژاد امریکی ڈاکٹر اور سیاست دان عبدالسید کو ایک انوکھے اور منظم ڈیجیٹل پروپیگنڈے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ امریکی انتہائی دائیں بازو کے سیاسی حلقوں اور سوشل میڈیا صارفین نے ان کی کامیابی کے بعد ان کے خلاف ایک رابطہ مہم شروع کی جس میں عربی اور اسلامی اصطلاح 'انشاءاللہ' کو بطور ہتھیار استعمال کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق اس مہم کا مقصد عبدالسید کے خلاف تعصب کو ہوا دینا اور امریکی عوام کے دلوں میں ان کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنا تھا۔ رپورٹس کے مطابق جب عبدالسید نے اپنی انتخابی مہم کے دوران اور کامیابی کے بعد روایتی انداز میں اپنے خیالات کا اظہار کیا تو دائیں بازو کے انتہا پسند عناصر نے ان کے بیانات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا۔ لفظ 'انشاءاللہ' جو کہ مسلمانوں کے ہاں کسی بھی کام کے اللہ کی مرضی پر چھوڑنے کے لیے بولا جاتا ہے، اسے جان بوجھ کر ایک خطرناک یا پوشیدہ سیاسی ایجنڈے کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس منفی مہم کا بنیادی مقصد عبدالسید کی سیاسی ساکھ کو نقصان پہنچانا اور ان کے ووٹرز کے اندر خوف پھیلانا تھا تاکہ وہ مین فریم سیاست سے الگ تھلگ ہو جائیں۔ تاہم، سیاسی تجزیہ کاروں اور ڈیموکریٹک حامیوں نے اس ڈیجیٹل ہتھکنڈے کو کھلم کھلا تعصب اور اسلامو فوبیا قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ جیسے کثیر الثقافتی معاشرے میں اس طرح کی متعصبانہ مہمات جمہوری اقدار کے منافی ہیں۔ عبدالسید کے حامیوں نے اس پروپیگنڈے کا بھرپور جواب دیتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی رکاوٹیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ اقلیتی امیدواروں کو آج بھی کس قدر شدید نسلی اور ثقافتی تعصبات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس واقعے نے ایک بار پھر امریکی سیاست میں ڈیجیٹل مہمات کے منفی استعمال اور مذہبی الفاظ کی توڑ مروڑ پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔