Business
پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتوں کا اعلان
حکومت نے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کے بعد پیٹرول کی قیمت میں ایک روپے کی معمولی کمی اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3.37 روپے فی لیٹر اضافے کا اعلان کیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق منگل کے روز سے کر دیا گیا ہے جبکہ پیٹرولیم ڈویژن نے نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
اسلام آباد: وفاقی حکومت نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے تناظر میں پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کر دیا ہے۔ جمعہ کے روز جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق حکومت نے پٹرول کی فی لیٹر قیمت میں ایک روپیہ کمی کی ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3.37 روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔ اس ردوبدل کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 334.18 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 386.83 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ حکام کے مطابق اس فیصلے کا مقصد عالمی مارکیٹ میں ایرانی امریکی کشیدگی اور خلیج فارس میں جاری بحران کے باعث تیل کی قیمتوں کے اثرات کو مقامی مارکیٹ تک پہنچانا ہے۔ وزارتِ پیٹرولیم کا کہنا ہے کہ حکومت پٹرول پر مجموعی طور پر 110 روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر 96 روپے فی لیٹر ٹیکس اور ڈیوٹیز وصول کر رہی ہے۔ پٹرولیم ڈویژن کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کی رو سے یہ نئی قیمتیں منگل کے روز سے نافذ العمل ہوں گی۔ یاد رہے کہ اس سے قبل پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہفتہ وار بنیادوں پر نظرثانی کی جا رہی تھی، تاہم اب وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اعلان کیا ہے کہ بین الاقوامی منڈی میں ہونے والی تبدیلیوں کی وجہ سے ایندھن کی قیمتیں روزانہ کی بنیاد پر طے کی جائیں گی۔ حکومت نے کابینہ اور وزیراعظم کی منظوری کے بعد آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کو یہ ذمہ داری سونپ دی ہے کہ وہ عالمی مارکیٹ کے رحجانات کو مدنظر رکھتے ہوئے روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کا تعین کرے گی۔ تاہم، حکومت کے اس فیصلے کو آل پاکستان ڈیلرز ایسوسی ایشن کی طرف سے مسترد کر دیا گیا ہے اور ڈیلرز نے اس کے خلاف احتجاجی لائحہ عمل تیار کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ پٹرول کا استعمال بنیادی طور پر نجی سواریوں، چھوٹی گاڑیوں، رکشوں اور موٹر سائیکلوں میں کیا جاتا ہے، جس کی وجہ سے اس کی قیمت میں ہونے والی ہر تبدیلی براہِ راست متوسط اور ن unteren متوسط طبقے کو متاثر کرتی ہے۔ دوسری طرف، ڈیزل بھاری ٹرانسپورٹ سیکٹر، زرعی ٹیوب ویلوں اور بڑے جنریٹرز میں استعمال ہوتا ہے، اس لیے ڈیزل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا اثر بھی پورے ملک پر پڑتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے موجودہ حالات کے پیش نظر توانائی کے شعبے میں چیلنجز برقرار ہیں اور حکومت کو معیشت اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے متوازن پالیسی اپنانا ہوگی۔