LIVE
Loading Breaking News...

وزیراعظم شہباز شریف کا تہہ فریقی دفاعی معاہدے پر اہم بیان

News Image
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ دفاعی معاہدہ کسی جارحیت کے لیے نہیں ہے۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دی گئی قربانیوں کو سراہا اور حرمین شریفین کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا۔
اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ حالیہ تہہ فریقی دفاعی معاہدے کا مقصد کسی بھی فریق کے خلاف جارحیت کرنا ہرگز نہیں ہے۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان کئی دہائیوں سے جاری باہمی تعاون اور دوستانہ تعلقات کی ہی ایک کڑی ہے، جو خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمیشہ سے خطے میں امن کا خواہاں رہا ہے اور اس طرح کے دفاعی اقدامات کا بنیادی مقصد ملکی دفاع کو مضبوط بنانا اور باہمی تعاون کو فروغ دینا ہے۔ اجلاس کے دوران وزیراعظم نے حرمین شریفین کے تقدس اور تحفظ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس مقدس مقام کا تحفظ ہر مسلمان اور اسلامی ریاست کے لیے ایک اہم فریضہ ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان حرمین شریفین کے دفاع اور احترام کے لیے ہمیشہ پیش پیش رہے گا اور اس حوالے سے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ ان کے اس بیان کو سیاسی و عسکری حلقوں میں انتہائی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف ملک کی طویل جنگ کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے پاک فوج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام کی قربانیوں کو بھرپور خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ قوم نے دہشت گردی کے ناسور کو ختم کرنے کے لیے جو لازوال قربانیاں دی ہیں، تاریخ انہیں ہمیشہ یاد رکھے گی۔ وزیراعظم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک یہ جنگ جاری رہے گی اور ریاست اس کے لیے پرعزم ہے۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ملکی سیاسی و معاشی صورتحال کے علاوہ دیگر اہم امور پر بھی تفصیلی غور کیا گیا اور کئی اہم فیصلے کیے گئے۔ شرکا نے وزیراعظم کے اس موقف کی تائید کی کہ پاکستان کی خارجہ اور دفاعی پالیسیوں کا محور ہمیشہ خطے میں امن، سلامتی اور خود مختاری کا تحفظ رہا ہے۔ اجلاس کے اختتام پر ملکی ترقی اور خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں بھی کی گئیں۔