Politics
کوٹ لکھپت جیل میں عالیہ حمزہ پر مبینہ حملہ، پی ٹی آئی کا تحقیقات کا مطالبہ
پاکستان تحریک انصاف نے دعویٰ کیا ہے کہ کوٹ لکھپت جیل میں پارٹی رہنما عالیہ حمزہ پر خاتون قیدیوں نے حملہ کیا۔ جیل حکام اور پنجاب کے انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات نے اس الزام کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے الزام عائد کیا ہے کہ لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قید پارٹی کی پنجاب چیپٹر کی آرگنائزر عالیہ حمزہ پر جیل کی چند خواتین قیدیوں نے جسمانی حملہ کیا ہے۔ پی ٹی آئی رہنماؤں کے مطابق یہ واقعہ جیل کے غسل خانے میں پانی کے تنازع پر پیش آیا جہاں ایک خاتون قیدی نے تقریبا دس دیگر قیدیوں کے ساتھ مل کر عالیہ حمزہ پر مبینہ طور پر تشدد کیا اور ان کا گلا گھونٹنے کی کوشش بھی کی۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ دراصل عالیہ حمزہ کی جان لینے کی ایک کوشش تھی تاہم موقع پر موجود دیگر قیدی خواتین اور پی ٹی آئی کی کارکنوں صنم جاوید اور فلک جاوید نے بروقت مداخلت کرتے ہوئے حملہ آوروں سے عالیہ حمزہ کو بچایا۔ یاد رہے کہ عالیہ حمزہ کو رواں سال مارچ کے مہینے میں پنجاب پولیس نے گرفتار کیا تھا اور پولیس کا دعویٰ تھا کہ وہ روپوش تھیں اور اڈیالہ جیل کے باہر پارٹی ارکان اور کارکنوں کے اجتماعات کا اہتمام کر رہی تھیں۔ اس واقعہ کے سامنے آنے کے بعد پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایکس پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ کوٹ لکھپت جیل سے عالیہ حمزہ کی جان پر حملے کی تشویشناک خبر موصول ہوئی ہے جس پر پنجاب حکومت اور جیل انتظامیہ براہ راست ذمہ دار ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس مبینہ حملے کی فوری اور شفاف تحقیقات کی جائیں، غفلت برتنے والے جیل عملے کو فوری طور پر معزول کیا جائے اور ان کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عالیہ حمزہ کے اہل خانہ سے مشاورت کے بعد ان کی طبی جانچ اور تحفظ کے لیے عدالت میں باقاعدہ پٹیشن بھی دائر کی جائے گی۔ دوسری طرف جب اس معاملے پر پنجاب کے انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات میاں سالک جلال سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے پی ٹی آئی کے تمام الزامات کو یکسر مسترد کر دیا۔ آئی جی جیل خانہ جات کا کہنا تھا کہ جیل میں کسی بھی قسم کا کوئی جسمانی تصادم یا حملہ نہیں ہوا ہے بلکہ صرف خواتین قیدیوں کے درمیان باتھ روم سے پانی بھرنے کے معاملے پر کچھ تلخ کلامی ہوئی تھی جسے فوراً رفع دفع کر دیا گیا۔ واضح رہے کہ پی ٹی آئی شروع ہی سے عالیہ حمزہ کی گرفتاری کو غیر قانونی اور فسطائیت قرار دیتی آ رہی ہے اور حالیہ واقعے کے بعد پارٹی قیادت اور حکام کے درمیان ایک بار پھر لفظی جنگ تیز ہو گئی ہے۔