Health
غذائی شکر اور بیضہ دان کے کینسر کا پھیلاؤ، اہم طبی تحقیق سامنے آگئی
طبی ماہرین کی ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ عام غذائی شکر بیضہ دان یعنی اورین کینسر کے خلیات کو تیزی سے پھیلانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہ تحقیق کینسر کے علاج اور مریضوں کی خوراک سے متعلق نئی حکمت عملی مرتب کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔
طبی اور سائنسی دنیا میں ایک اہم اور چونکا دینے والا انکشاف سامنے آیا ہے جس کے مطابق روزمرہ استعمال ہونے والی عام غذائی شکر بیضہ دان (Ovarian Cancer) کے کینسر کے خلیات کو تیزی سے جسم میں پھیلانے کا باعث بنتی ہے۔ اس زمینی حقیقت کو ظاہر کرنے والی نئی تحقیق نے ماہرینِ صحت اور محققین کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی ہے، کیونکہ کینسر کے مریضوں کی غذائی عادات اور اس بیماری کے پھیلاؤ کے درمیان گہرا تعلق پایا گیا ہے۔
محققین کے مطابق، کینسر کے خلیات عام خلیات کے مقابلے میں توانائی کے حصول کے لیے شکر یا گلوکوز کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ جب خوراک میں شکر کی مقدار زیادہ ہوتی ہے تو یہ مہلک خلیات کو نہ صرف بڑھنے میں مدد دیتی ہے بلکہ ان کے جسم کے دوسرے حصوں تک منتقلی کے عمل کو بھی تیز کر دیتی ہے۔ اس تحقیق نے اس بات کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے کہ کینسر کے مریضوں کے لیے پرہیز اور متوازن غذا کی کتنی زیادہ اہمیت ہے۔
اس زمینی پیش رفت کے بعد اب طبی ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ کینسر کے علاج کے دوران مریضوں کی خوراک میں شکر کے استعمال کو محدود یا مکمل طور پر کنٹرول کیا جانا چاہیے۔ روایتی علاج کے ساتھ ساتھ غذائی تبدیلیوں کو بھی تھراپی کا حصہ بنانے سے مرض کے پھیلاؤ کو روکا جا سکتا ہے اور مریضوں کی صحت یابی کے امکانات کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ اس تحقیق کی روشنی میں مستقبل میں کینسر کے علاج کے نئے طریقے وضع کیے جائیں گے جو ادویات کے ساتھ ساتھ غذائی پابندیوں پر بھی مبنی ہوں گے۔ اس حوالے سے مزید کلینیکل ٹرائلز اور تحقیقات جاری ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ کس طرح مخصوص غذائی اجزا کو کنٹرول کر کے کینسر کے خلاف جنگ کو مزید مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔