Business
ویزا کمپنی کے سینیئر ایگزیکٹوز اور ملازمین کی برطرفی کی تفصیلات
عالمی پیمانے پر ہونے والی کٹائی کے دوران کریڈٹ کارڈ کی بڑی کمپنی ویزا نے اپنے کئی سینیئر ایگزیکٹوز کو نوکریوں سے برطرف کر دیا ہے۔ اس تازہ ترین اقدام کا مقصد کمپنی کے انتظامی اخراجات کو کم کرنا اور کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔
عالمی مالیاتی اور کریڈٹ کارڈ کی معروف کمپنی ویزا میں ہونے والی چھانٹیوں کی لہر اب اعلیٰ ترین عہدوں تک پہنچ گئی ہے۔ کمپنی کی جانب سے دنیا بھر میں تقریباً دو ہزار چھ سو ملازمین کی ملازمتیں ختم کرنے کے اعلان کے ایک ہفتے کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس کٹائی کی زد میں کئی سینیئر ایگزیکٹوز بھی آ چکے ہیں جن میں سے بعض کی سالانہ تنخواہ پانچ لاکھ ڈالر کے قریب تھی۔ اس پیش رفت نے کارپوریٹ حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے کیونکہ عام طور پر اس طرح کی بڑی کٹائیوں کا نشانہ نچلے اور درمیانے درجے کے ملازمین بنتے ہیں، لیکن اس بار اعلیٰ انتظامیہ کو بھی اس سے نہیں بچایا گیا۔ ذرائع کے مطابق کمپنی کے اندرونی ڈھانچے کو تبدیل کرنے اور انتظامی اخراجات میں کمی لانے کے لیے یہ سخت فیصلے کیے جا رہے ہیں۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور معاشی دباؤ کے پیش نظر بڑی ٹیکنالوجی اور مالیاتی کمپنیاں اپنے اخراجات کو محدود کرنے پر مجبور ہیں۔ ویزا کی جانب سے اس بابت باضابطہ طور پر یہ مؤقف اپنایا گیا ہے کہ مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضوں اور کاروباری حکمت عملی کے تحت یہ تبدیلیاں ناگزیر تھیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ اپنے آپریشنز کو زیادہ مؤثر بنانے کے لیے اس قسم کے اقدامات اٹھا رہی ہے تاکہ مستقبل میں کاروباری پائیداری کو یقینی بنایا جا سکے۔ متاثر ہونے والے ان سینیئر عہدیداروں میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو طویل عرصے سے کمپنی کے ساتھ وابستہ تھے اور مختلف اہم شعبوں کی سربراہی کر رہے تھے۔ اس کارروائی کے بعد کارپوریٹ دنیا میں یہ بحث بھی شروع ہو چکی ہے کہ آیا دیگر مالیاتی ادارے بھی اسی قسم کے اقدامات کا سہارا لیں گے۔ ملازمین کی یونینز اور پیشہ ورانہ حلقوں کی جانب سے ان برطرفیوں پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، تاہم ویزا کی انتظامیہ اپنے فیصلوں پر کاربند دکھائی دیتی ہے اور مستقبل کے اہداف کے حصول کے لیے نئے سرے سے منصوبہ بندی کر رہی ہے۔