LIVE
Loading Breaking News...

پشاور ہائیکোর্ট کا قائد اعظم نامی شہری کی ملک بدری روکنے کا حکم

News Image
پشاور ہائیکোর্ট نے قائد اعظم نامی شہری کا شناختی کارڈ بلاک کرنے کے خلاف دائر درخواست پر حکام کو اس کی ملک بدری سے روک دیا ہے۔ عدالت نے درخواست گزار کو تمام دستاویزات کے ساتھ نادرا کے تصدیقی بورڈ کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔
پشاور ہائیکোর্ট نے ایک منفرد اور اہم معاملے میں قائد اعظم نامی شہری کی ملک بدری کے خلاف حکم امال جاری کرتے ہوئے اسے فوری طور پر نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے تصدیقی بورڈ کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کی ہے۔ عدالت عالیہ کا یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب ایک دو رکنی بنچ نے شہری کا شناختی کارڈ بلاک کیے جانے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی۔ عدالت میں کیس کی سماعت کرنے والے بینچ میں جسٹس وقار احمد اور جسٹس انعام اللہ خان شامل تھے۔ سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کا موکل پاکستان اور دبئی میں کاروبار کرتا ہے اور باقاعدگی سے حکومت پاکستان کو ٹیکس ادا کرتا ہے۔ وکیل نے موقف اختیار کیا کہ نادرا کی جانب سے ان کے موکل کا قومی شناختی کارڈ غیر قانونی طور پر بلاک کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے اسے شدید کاروباری اور ذاتی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ وکیل کا مزید کہنا تھا کہ خاندان کے دیگر افراد کے پاس بھی پاکستانی شناختی کارڈ موجود ہیں، اس کے باوجود ان کے موکل کو پریشان کیا جا رہا ہے اور اسے ملک بدر کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ عدالت میں نادرا کے قانونی نمائندے شاہد عمران گیگیانی بھی پیش ہوئے اور انہوں نے اتھارٹی کی جانب سے عدالت میں اپنا جواب جمع کرایا۔ نادرا کے وکیل کا کہنا تھا کہ درخواست گزار کا شناختی کارڈ مشکوک تصور کیا گیا تھا جس کی بنیاد پر ضابطے کے تحت اسے عارضی طور پر بلاک کیا گیا۔ دونوں جانب کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد پشاور ہائیکোর্ট نے حکم دیا کہ جب تک نادرا کا تصدیقی بورڈ اس معاملے کا حتمی جائزہ نہیں لیتا، اس وقت تک متعلقہ حکام قائد اعظم نامی شہری کو ملک بدر نہ کریں۔ عدالت نے ہدایت کی کہ درخواست گزار نادرا کے بورڈ کے سامنے پیش ہو کر اپنی شہریت سے متعلق تمام ضروری شواہد اور وضاحت پیش کرے تاکہ اس معاملے کا قانون کے مطابق مستقل حل نکالا جا سکے۔