LIVE
Loading Breaking News...

بھارت میں مصنوعی ذہانت کی وجہ سے دفاتر کی مانگ میں اضافہ

News Image
مصنوعی ذہانت کے پھیلاؤ کی وجہ سے بھارت میں دفتری مارکیٹ تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے جہاں اب درمیانے سجے کی کمپنیاں بھی دفاتر کے حصول میں دلچسپی لے رہی ہیں۔ ایمبیسی ریٹ (Embassy REIT) کے مطابق اس نئے رجحان سے ریئل اسٹیٹ کے شعبے کو وسیع پیمانے پر فروغ مل رہا ہے۔
مصنوعی ذہانت (AI) کے تیز رفتار اضافے نے اب بھارت کی کمرشل رئیل اسٹیٹ اور دفتری مارکیٹ کی حرکیات کو یکسر تبدیل کرنا شروع کر دیا ہے۔ معروف رئیل اسٹیٹ کمپنی ایمبیسی ریٹ (Embassy REIT) کی جانب سے جاری کردہ معلومات کے مطابق، اس نئی ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ نے روایتی طور پر صرف بڑی فورچیون 500 کمپنیوں تک محدود رہنے والی دفتری جگہوں کی مانگ کو اب درمیانے درجے کے عالمی اداروں اور چھوٹے گلوبل کیپیبلٹی سینٹرز (GCCs) تک وسیع کر دیا ہے۔ اس تبدیلی کی بدولت ملک بھر میں کاروباری مراکز اور دفتری عمارتوں کے شعبے میں ایک نیا اور متحرک رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی جدید ٹولز اور خدمات کی بڑھتی ہوئی مانگ نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو اس بات پر مجبور کر دیا ہے کہ وہ دنیا کے مختلف حصوں میں اپنے دفاتر قائم کریں تاکہ ٹیکنالوجی کے اس انقلاب سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکے۔ بھارت جو پہلے ہی آئی ٹی اور سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ کے شعبے میں عالمی سطح پر ایک اہم مقام رکھتا ہے، اب ان نئی کمپنیوں کے لیے ایک پسندیدہ ترین مقام بنتا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کے بڑے شہروں میں دفتری جگہوں کی تلاش میں نمایاں تیزی آئی ہے۔ ایمبیسی ریٹ کے حکام کا مزید کہنا ہے کہ اس رحجان سے نہ صرف معیشت کو استحکام مل رہا ہے بلکہ رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں سرمایہ کاری کے نئے دروازے بھی کھل رہے ہیں۔ روایتی کاروباری ماڈلز سے ہٹ کر اب کمپنیاں لچکدار اور جدید سہولیات سے آراستہ دفتری جگہوں کو ترجیح دے رہی ہیں تاکہ مصنوعی ذہانت کے پروجیکٹس کو بہتر طریقے سے چلایا جا سکے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس رجحان میں مزید تیزی آئے گی اور بھارت کا دفتری مارکیٹ کا شعبہ بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے مزید پرکشش بن جائے گا۔