World
امریکہ کا ایشیا میں سکیورٹی اور دفاعی تعاون بڑھانے کا اعلان
پینٹاگون کے حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ ایشیا میں اپنے دفاعی قدم مزید گہرے کر رہا ہے مگر خطے میں انحصار کے بجائے مضبوط شراکت داری کا خواہاں ہے۔ یہ بیانات خطے میں سکیورٹی اور اسٹریٹجک تعاون کو فروغ دینے کے تناظر میں سامنے آئے ہیں۔
واشنگٹن: پینٹاگون کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ ایشیا میں اپنے اسٹریٹجک اور دفاعی قدموں کو مزید مضبوط کر رہا ہے، تاہم اس کا مقصد کسی قسم کا انحصار پیدا کرنا نہیں بلکہ خطے کے ممالک کے ساتھ باوقار اور متوازن شراکت داری قائم کرنا ہے۔ یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب واشنگٹن جنوب مشرقی ایشیا اور بحرالکاہل کے خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو وسعت دینے کے لیے سرگرم ہے۔ ماہرین کے مطابق امریکہ خطے میں سکیورٹی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اپنے اتحادیوں کو زیادہ خود مختار بنانا چاہتا ہے۔ پینٹاگون کے پالیسی امور سے وابستہ حکام نے واضح کیا ہے کہ امریکہ کا مقصد ایشیا میں طویل مدتی سکیورٹی ڈھانچے کو فروغ دینا ہے۔ اس ضمن میں جنوب مشرقی ایشیائی ممالک بالخصوص انڈونیشیا اور دیگر اتحادیوں کے ساتھ دفاعی تعاون کے نئے راستے تلاش کیے جا رہے ہیں۔ امریکی پالیسی سازوں کا ماننا ہے کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب مقامی حکومتیں اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بہتر بنائیں اور امریکہ کے ساتھ ایک برابر کی سطح پر شراکت کریں۔ اس حکمت عملی کا مقصد خطے کے اندر طاقت کے توازن کو برقرار رکھنا اور کسی ایک طاقت کے غلبے کو روکنا ہے۔ سکیورٹی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اسٹریٹجک تبدیلی اس بات کی عکاس ہے کہ واشنگٹن اب ایشیا میں محض روایتی اثر و رسوخ تک محدود نہیں رہنا چاہتا، بلکہ وہ علاقائی ممالک کو اپنے پیروں پر کھڑا دیکھنے کا خواہاں ہے۔ اس طویل مدتی حکمت عملی کے تحت آنے والے دنوں میں امریکہ اور ایشیائی ممالک کے درمیان مشترکہ فوجی مشقوں، انٹیلی جنس شیئرنگ اور دفاعی سازوسامان کی فراہمی میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔