LIVE
Loading Breaking News...

یمن اور سعودی عرب کشیدگی، حوثی حملے اور ایرانی پرواز کا معاملہ

News Image
یمن کے لیے پرواز روکنے کے واقعے کے بعد حوثی باغیوں اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ یمن میں حالیہ حملوں اور لڑائی کے نتیجے میں جانی نقصان کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
یمن کے لیے پرواز کرنے والی ایک ایرانی پرواز کو روکے جانے کے واقعے کے بعد حوثی باغیوں اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات میں ایک بار پھر شدید کشیدگی پیدا ہو گئی ہے۔ مبصرین کے مطابق اس واقعے نے خطے میں پہلے سے موجود تناؤ کو مزید ہوا دی ہے اور حالیہ ہفتوں میں فریقین کے درمیان عسکری محاذ آرائی میں تیزی آئی ہے۔ سعودی عرب کی زیر قیادت اتحادی فورسز اور خطے کے دیگر ممالک اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ حالیہ دنوں میں یمن کے اندر ہونے والے حملوں کے نتیجے میں جانی نقصان کی بھی اطلاعات ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق مخا شہر میں ہونے والے ایک حملے میں عام شہریوں سمیت کئی افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے ہیں، جس کی سرکاری سطح پر بھی مذمت کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ سعودی عرب کی ایک آئل ریفائنری کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، جس سے توانائی کی تنصیبات کی سیکیورٹی کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ دوسری جانب عرب لیگ اور خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) نے حوثی باغیوں کی طرف سے کیے جانے والے ان حملوں کی شدید مذمت کی ہے۔ علاقائی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کارروائیاں خطے کے امن اور سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ ہیں اور اس سے یمنی عوام کے مصائب میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ کونسل نے خطے کے امن کو یقینی بنانے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل اپنانے پر زور دیا ہے۔ سعودی عرب کی حمایت یافتہ فورسز اور حوثی باغیوں کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ ایک طویل عرصے سے جاری ہے، لیکن حالیہ واقعات نے امن مذاکرات کی راہ میں مزید رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں۔ بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ کی جانب سے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور فوری طور پر جنگ بندی کی اپیل کی جا رہی ہے تاکہ خطے کو مزید تباہی سے بچایا جا سکے، تاہم زمینی حقائق تاحال کشیدہ نظر آتے ہیں۔