Business
بینک آف جاپان جولائی اجلاس: شرح سود میں تیزی سے اضافے کا اشارہ
بینک آف جاپان کے جولائی کے اجلاس کے جاری کردہ خلاصے کے مطابق ارکان نے شرح سود میں مزید تیز اضافے کی ضرورت پر اتفاق کیا۔ افراط زر کے بڑھتے ہوئے خطرات اور ین کی کمزوری کے باعث پالیسی سازوں میں آراء منقسم نظر آئیں۔
بینک آف جاپان (BOJ) کے جولائی کے مالیاتی اجلاس کا جاری کردہ خلاصہ ظاہر کرتا ہے کہ مرکزی بینک کے ارکان نے ملک میں شرح سود میں زیادہ تیزی سے اضافے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مالیاتی اداروں کے اہم رہنماؤں نے افراط زر کے بڑھتے ہوئے خطرات کا بغور جائزہ لیا اور اس بات پر اتفاق کیا کہ معیشت کو مستحکم رکھنے کے لیے مانیٹری پالیسی کو مزید سخت کرنا پڑ سکتا ہے۔ جاپانی ین کی مسلسل کمزوری اور کرنسی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ نے پالیسی سازوں کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے، جس کی وجہ سے شرح سود میں اضافے کے حوالے سے آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں میں بھی بینک آف جاپان کے ان فیصلوں پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ کرپٹو کرنسی مارکیٹ اور فاریکس ٹریڈنگ میں بھی بی او جے کے ممکنہ اقدامات کے اثرات دیکھے جا رہے ہیں، جہاں بٹ کوائن اور دیگر اثاثے ان پالیسی تبدیلیوں کے پیش نظر مستحکم رہنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایچ ایس بی سی اور دیگر مالیاتی اداروں کے ماہرین کا کہنا ہے کہ جاپانی ین کو درپیش شرح سود کا طویل فاصلہ مداخلت کے باوجود ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے، کیونکہ شرح سود میں فرق کی وجہ سے کرنسی مارکیٹ میں دباؤ برقرار ہے۔
بینک آف جاپان کے اندرونی حلقوں میں آئندہ کے لائحہ عمل پر کچھ تقسیم بھی پائی جاتی ہے کیونکہ کچھ ارکان افراط زر کے خطرات سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات کے حامی ہیں جبکہ دیگر محتاط رویہ اپنانے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ اس کے باوجود، جولائی کے خلاصے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بینک آف جاپان اب طویل مدتی منفی یا انتہائی کم شرح سود کے دور سے نکل کر معمول کی طرف تیزی سے بڑھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ آنے والے مہینوں میں جاپانی معیشت اور عالمی مالیاتی منڈیوں کے لیے ان فیصلوں کے دور رس نتائج برآمد ہوں گے۔