World
اسکاٹش رکن پارلیمنٹ کی عصمت دری کے بیان پر معافی
اسکاٹش گرین پارٹی کی رکن پارلیمنٹ کو ایک پوڈاسٹ انٹرویو میں عصمت دری سے متعلق دیے گئے متنازع بیانات پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ متاثرہ خواتین کے گروپس اور سیاستدانوں کی جانب سے شدید ردعمل کے بعد انہوں نے اپنے تبصروں پر معافی مانگ لی ہے۔
اسکاٹش گرین پارٹی کی رکنِ پارلیمنٹ (ایم ایس پی) کو ایک پوڈکاسٹ انٹرویو کے دوران عصمت دری سے متعلق دیے گئے متنازع تبصروں پر شدید عوامی اور سیاسی تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس واقعے نے ملک بھر میں ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے جہاں ریپ سے بچ جانے والی خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں اور مختلف سیاسی رہنما کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات جنسی تشدد کا نشانہ بننے والے افراد کے لیے مزید تکلیف کا باعث بنتے ہیں اور معاشرے میں غلط پیغام چلاتے ہیں۔ بڑھتے ہوئے دباؤ اور شدید عوامی ردعمل کے پیش نظر متعلقہ رکنِ پارلیمنٹ نے اپنے کہے گئے الفاظ پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے غیر مشروط معافی مانگ لی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا مقصد ہرگز کسی کی دل آزاری کرنا یا ریپ جیسے سنگین جرم کی سنگینی کو کم کرنا نہیں تھا، تاہم وہ اپنے انتخابِ الفاظ کی خرابی کا اعتراف کرتی ہیں۔ ریپ سروائیورز کی نمائندہ تنظیموں نے اس معاملے پر سخت مؤقف اپناتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ عوامی عہدوں پر فائز شخصیات کو اس قسم کے حساس موضوعات پر گفتگو کرتے وقت انتہائی محتاط رہنا چاہیے۔ تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات نہ صرف متاثرین کے لیے صدمے کا باعث بنتے ہیں بلکہ انصاف کے حصول کی راہ میں بھی رکاوٹ بنتے ہیں۔ دوسری جانب سیاسی حلقوں میں بھی اس واقعے کے بعد ضابطہ اخلاق اور عوامی بیانات کی تربیت سے متعلق نئے مطالبات اٹھائے جا رہے ہیں۔ اسکاٹش پارلیمنٹ اور متعلقہ سیاسی جماعت کی قیادت اس معاملے کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے تاکہ آئندہ اس قسم کے بیانات سے گریز کیا جا سکے اور متاثرہ طبقات کے حقوق کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔