World
برطانیہ میں گرمی اور خشک سالی کے اثرات خلا سے واضح
برطانیہ میں اس طویل اور گرم موسم کے اثرات اتنے شدید ہیں کہ خلا سے لی گئی سیٹلائٹ تصاویر میں بھی واضح تبدیلیاں دیکھی جا سکتی ہیں۔ یہ موسمیاتی تبدیلیاں اور خشک سالی کے آثار تاریخی مقامات سمیت اہم آبی ذخائر پر نمایاں طور پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔
برطانیہ میں اس بار پڑنے والی طویل اور شدید گرمی نے ملک کے قدرتی مناظر اور تاریخی مقامات کی شکل ہی بدل دی ہے، اور اب اس کے اثرات خلا سے بھی صاف دیکھے جا سکتے ہیں۔ خلائی اداروں کی جانب سے جاری کردہ نئی سیٹلائٹ تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کس طرح ملک کے مختلف حصوں میں خشک سالی اور شدید درجہ حرارت نے زمین کی رنگت اور ساخت کو تبدیل کر دیا ہے۔ یہ تبدیلیاں اتنی نمایاں ہیں کہ زمین کے نچلے مدار میں موجود سیٹلائٹ کیمرے بھی اس کی واضع عکاسی کر رہے ہیں۔
اس صورتحال کا اندازہ دنیا بھر میں مشہور تاریخی مقام اسٹون ہینج سے لے کر لندن کے معروف پارک میں موجود سیرپنٹائن جھیل تک لگایا جا سکتا ہے۔ طویل عرصے تک بارش نہ ہونے اور مسلسل شدید گرمی کی لہر برقرار رہنے کی وجہ سے ہرے بھرے علاقے پیلے اور خشک ہو چکے ہیں۔ گھاس اور پودے سوکھنے کی وجہ سے زمین کے وہ نقوش جو عام حالات میں زمین سے اتنے واضح نہیں ہوتے، اب اوپر سے لی گئی تصاویر میں صاف ابھر کر سامنے آ رہے ہیں۔
ماہرینِ موسمیات کے مطابق، حالیہ برسوں میں موسم کے معمولات میں تیزی سے تبدیلی آ رہی ہے اور اس طرح کے طویل گرم اور خشک ادوار اب زیادہ کثرت سے دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ اس موسمی دباؤ کا اثر نہ صرف زراعت اور جنگلات پر پڑ رہا ہے بلکہ تاریخی ورثے اور شہری آبی ذخائر بھی اس کی لپیٹ میں ہیں۔ جھیلوں اور تالابوں میں پانی کی سطح میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے جو ماحولیاتی توازن کے حوالے سے ایک تشویشناک امر ہے۔
برطانوی عوام اور متعلقہ ادارے اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ آنے والے دنوں میں پانی کی قلت اور زرعی پیداوار پر اس کے منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والا یہ ڈیٹا مستقبل میں موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرات سے نمٹنے اور طویل مدتی منصوبہ بندی کرنے کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوگا، تاکہ اس طرح کے شدید موسمی حالات کے نقصانات کو کم سے کم کیا جا سکے۔