LIVE
Loading Breaking News...

الجزیرہ کے صحافی انس الشریف کی برسی اور صحافت پر حملے

News Image
اسرائیل کے ہاتھوں الجزیرہ کے معروف صحافی انس الشریف اور ان کے ساتھیوں کی شہادت کو ایک برس بیت گیا ہے۔ اس المناک واقعے کو دنیا بھر میں صحافت کی آزادی پر ایک بڑا حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔
دس اگست کا دن صحافی برادری اور دنیا بھر کے میڈیا اداروں کے لیے ایک انتہائی صدمہ ناک اور تاریخی دن کی حیثیت رکھتا ہے، کیونکہ یہ دن الجزیرہ کے مایہ ناز صحافی انس الشریف اور ان کے ساتھیوں کی اسرائیلی بمباری میں شہادت کو ایک سال مکمل ہونے کی یاد دلاتا ہے۔ اس ایک سال کے عرصے میں غزہ کے اندر صحافیوں کے لیے کام کرنے کے حالات مزید مخدوش ہو چکے ہیں، جبکہ جنگی علاقوں میں حق سچ کی آواز بلند کرنے والوں کو نشانہ بنانے کے واقعات پر عالمی سطح پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ انس الشریف نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کے دوران غزہ کی پٹی پر ہونے والی بمباری اور انسانی المیے کو دنیا کے سامنے لانے کے لیے انتہائی بہادری کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے تمام تر خطرات کے باوجود میدانِ جنگ سے براہ راست رپورٹنگ جاری رکھی اور دنیا کو خطے کی زمینی حقائق سے آگاہ کیا۔ ان کی اس قربانی نے بین الاقوامی سطح پر صحافتی آزادی کے تحفظ کے حوالے سے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے، جہاں انسانی حقوق کی تنظیمیں مسلسل مطالبات کر رہی ہیں کہ جنگی زونز میں صحافیوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔ اس ایک سال کی برسی کے موقع پر مختلف عالمی اداروں اور صحافی یونینز کی طرف سے انس الشریف اور دیگر شہید صحافیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔ ان کی پیشہ ورانہ خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا کیونکہ انہوں نے اپنی جان کا نذرانہ دے کر صحافت کے بنیادی اصولوں کی پاسداری کی۔ عالمی برادری سے یہ مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے کہ وہ غزہ میں صحافیوں کے خلاف ہونے والے جرائم کی شفاف تحقیقات کو یقینی بنائیں اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کریں۔