World
پینٹاگون کی جانب سے جرمن یونیورسٹیوں میں دوہری استعمال کی تحقیق کی مالی معاونت
امریکی محکمہ دفاع نے پچھلے سات برسوں کے دوران جرمن یونیورسٹیوں اور تحقیقی مراکز کو دوہری استعمال کی ٹیکنالوجی کے منصوبوں کے لیے فنڈز فراہم کیے۔ اس بات کا انکشاف امریکی وفاقی بجٹ کے اعداد و شمار پر مبنی ایک معروف جرمن جریدے کی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔
واشنگٹن اور ماسکو سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، امریکی محکمہ دفاع نے گزشتہ سات سالوں کے دوران جرمن یونیورسٹیوں اور تحقیقی مراکز میں دوہری استعمال کی ٹیکنالوجی کے منصوبوں پر کام کرنے کے لیے لاکھوں ڈالر کی گرانٹس فراہم کی ہیں۔ جرمن جریدے ڈیر اسپیگل کی جانب سے اتوار کے روز شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ یہ فنڈنگ امریکی وفاقی بجٹ کے اعداد و شمار پر مبنی ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان سائنسی اور تکنیکی تعاون کے ایک نئے اور حساس پہلو پر روشنی پڑتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، امریکی دفاعی حکام کی جانب سے مختص کی جانے والی کل رقم 20.4 ملین ڈالر تک پہنچتی ہے۔ یہ گرانٹس ایسے تحقیقی منصوبوں کے لیے استعمال کی گئیں جو سویلین کے ساتھ ساتھ ممکنہ فوجی مقاصد کے لیے بھی کارآمد ثابت ہو سکتے ہیں، جنہیں بین الاقوامی سطح پر دوہری استعمال کی ٹیکنالوجی کہا جاتا ہے۔ اس طرح کی تحقیقات اکثر جدید مٹیریل سائنس، مصنوعی ذہانت، یا دیگر حساس سائنسی شعبوں کا احاطہ کرتی ہیں جن میں دفاعی اور تجارتی دونوں طرح کی صلاحیتیں موجود ہوتی ہیں۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اس قسم کی فنڈنگ سے جرمن تعلیمی اداروں اور امریکی دفاعی اداروں کے مابین گہرے ہوتے ہوئے روابط کا پتہ چلتا ہے۔ تاہم، اس طرح کے اشتراک عمل نے بعض حلقوں میں تحفظات بھی پیدا کیے ہیں، کیونکہ یونیورسٹیوں میں ہونے والی تحقیق کو دفاعی حکمت عملیوں سے جوڑنا ایک طویل عرصے سے بحث کا موضوع رہا ہے۔ جرمنی میں اس رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد تعلیمی اور تحقیقی حلقوں میں اس حوالے سے مزید مباحثے شروع ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔
امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے اس فنڈنگ کا بنیادی مقصد جدید ٹیکنالوجی کے شعبے میں برتری حاصل کرنا اور اتحادی ممالک کے ساتھ مل کر اہم سائنسی مسائل کا حل تلاش کرنا ہے۔ پینٹاگون دنیا بھر کے مختلف اداروں کے ساتھ مل کر تحقیق و ترقی کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کرتا ہے تاکہ مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جدید ترین سائنسی بنیادیں تیار کی جا سکیں۔