Entertainment
اسٹیون شنائیڈر کی نئی ہارر فلم ٹیرینیئم اے آئی کی مدد سے بنے گی
مشہور ہارر فلم 'پیرانارمل ایکٹیویٹی' کے پروڈیوسر اسٹیون شنائیڈر نے مصنوعی ذہانت پر مبنی فلمسازی کی دنیا میں قدم رکھ دیا ہے۔ وہ اے آئی اسٹوڈیوز کے اشتراک سے 'ٹیرینیئم' نامی ایک نئی ہارر فلم تخلیق کرنے جا رہے ہیں۔
ہارر فلموں کی دنیا میں ایک نئے اور منفرد باب کا آغاز ہونے جا رہا ہے کیونکہ مقبول ترین فلم 'پیرانارمل ایکٹیویٹی' کے پیچھے موجود نامور پروڈیوسر اسٹیون شنائیڈر نے اب جدید ترین مصنوعی ذہانت (AI) ٹیکنالوجی کا رخ کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اسٹیون شنائیڈر نے اے آئی اسٹوڈیوز کے ساتھ ہاتھ ملا لیا ہے تاکہ ایک بالکل نئی اور خوفناک ہارر فلم 'ٹیرینیئم' تیار کی جا سکے۔ فلمی صنعت کے اندر اس اقدام کو ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جہاں روایتی فلمسازی کے ساتھ اب جدید ترین ٹیکنالوجی کو بھی بھرپور طریقے سے آزمایا جائے گا۔
اس پراجیکٹ کے حوالے سے فلمی حلقوں میں کافی جوش و خروش پایا جاتا ہے کیونکہ اسٹیون شنائیڈر ہارر جنرا میں سنسنی خیز کہانیاں سنانے کا طویل تجربہ رکھتے ہیں۔ ان کی ماضی کی فلموں نے دنیا بھر میں باکس آفس پر دھوم مچائی تھی اور اب جب وہ مصنوعی ذہانت کی طاقت کو بروئے کار لانے جا رہے ہیں، تو شائقین اور بھی زیادہ سنسنی خیز تجربے کی توقع کر رہے ہیں۔ فلم 'ٹیرینیئم' کے ذریعے اے آئی کے ٹولز کو کہانی سنانے، بصری اثرات اور خوف کے ماحول کو مزید گہرا کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا، جو سنیما کی تاریخ میں ایک نیا تجربہ ہوگا۔
مصنوعی ذہانت کا فلمی صنعت میں داخلہ پہلے ہی متنازعہ اور زیر بحث رہا ہے، تاہم اس قسم کے بڑے پراجیکٹس اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ نامور تخلیق کار اب اے آئی کو محض ایک چیلنج کے بجائے ایک طاقتور تخلیقی آلے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ٹیرینیئم کی تیاری کے مراحل پر کام تیزی سے جاری ہے اور فلم بینوں کی جانب سے اس کے ٹریلر اور مزید تفصیلات کا بے صبری سے انتظار کیا جا رہا ہے۔ یہ دیکھنا انتہائی دلچسپ ہوگا کہ اسٹیون شنائیڈر کا یہ نیا وژن ہارر فلموں کی صنف کو کس سمت میں لے کر جاتا ہے اور کیا اے آئی کے ذریعے پیدا کردہ خوف روایتی فلموں سے زیادہ اثر انگیز ثابت ہو گا یا نہیں۔