World
امریکہ کا ایشیا میں دفاعی شراکت داری بڑھانے کا اعلان
پینٹاگون کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے واضح کیا ہے کہ امریکہ کا ایشیائی خطے سے انخلا کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور وہ شراکت داری پر یقین رکھتا ہے۔ انہوں نے علاقائی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ایشیائی اتحادیوں پر دفاعی سرمایہ کاری بڑھانے پر بھی زور دیا ہے۔
پینٹاگون کے ایک اعلیٰ ترین عہدیدار نے واضح کیا ہے کہ امریکہ کا ایشیائی خطے سے لاتعلقی اختیار کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ واشنگتن اس خطے میں صرف شراکت داروں کا خواہاں ہے نہ کہ ایسے علاقوں کا جن پر تسلط جمانا مقصود ہو۔ اسٹریٹ بیس انسٹی ٹیوٹ میں خطاب کرتے ہوئے امریکی محکمہ جنگ کے انڈر سیکرٹری برائے پالیسی ایلبرج کولبی نے کہا کہ امریکہ جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے ساتھ مضبوط دفاعی تعاون کا خواہاں ہے تاکہ خطے میں امن و استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ طویل عرصے سے سکیورٹی اور حکمت عملی کے امور امریکہ اور آسیان ریاستوں کے درمیان تعلقات کا محور رہے ہیں اور اس شراکت داری کی اہمیت آج بھی مسلمہ ہے۔ خطے میں بڑھتے ہوئے اسٹریٹجک چیلنجز کے پیش نظر، پینٹاگون حکام کا یہ بیان انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے کیونکہ اس سے امریکہ کے عزم کا اعادہ ہوتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، امریکی پالیسی کا مقصد ایشیائی اتحادیوں کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنا اور انہیں جارحیت کے خلاف مؤثر ڈیٹرنس پیدا کرنے کے لیے آمادہ کرنا ہے۔ پینٹاگون نے ایشیائی اتحادیوں پر زور دیا ہے کہ وہ خطے میں کسی بھی قسم کی ممکنہ جارحیت کو روکنے اور سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے اپنی دفاعی سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ کریں۔ اس اقدام سے نہ صرف علاقائی ممالک کی اپنی صلاحیتیں بہتر ہوں گی بلکہ اجتماعی سلامتی کے فریم ورک کو بھی مزید تقویت ملے گی۔ امریکہ خطے کے ممالک کے ساتھ باہمی احترام اور مساوی بنیادوں پر تعلقات کو فروغ دینے کے لیے پرامید ہے تاکہ ایک مستحکم اور محفوظ انڈو پیسیفک خطے کا خواب شرمندہ تعبیر ہو سکے۔