World
کانگو ایبولا وباء: ڈبلیو ایچ او کا انکشاف
عالمی ادارہ صحت کے مطابق جمہوری جمہوریہ کانگو میں ایبولا کی وباء کے ابتدائی کیسز کو غلطی سے ملیریا اور ٹائیفائیڈ سمجھ لیا گیا تھا۔ اس غلط تشخیص کی وجہ سے بیماری کے پھیلاؤ کو بروقت روکنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے انکشاف کیا ہے کہ جمہوری جمہوریہ کانگو (ڈی آر سی) میں مہلک ایبولا کی وباء کا آغاز اس کے باضابطہ اعلان سے کئی ماہ قبل ہی ہو چکا تھا۔ ابتدائی طور پر اس بیماری کی علامات ظاہر ہونے پر متاثرہ افراد کے کیسز کو غلطی سے ملیریا اور ٹائیفائیڈ جیسی عام بیماریوں سے منسوب کر دیا گیا تھا، جس کی وجہ سے بروقت حفاظتی اقدامات اور علاج میں تاخیر ہوئی۔
ماہرین صحت کے مطابق جب تک ایبولا کی اصل تشخیص سامنے آئی، تب تک یہ مرض خاموشی سے کافی حد تک پھیل چکا تھا۔ ابتدائی علامات کا دوسری بیماریوں سے مشابہت رکھنا طبی عملے کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن گیا تھا، کیونکہ متاثرہ افراد کو عام بخار اور کمزوری کی ادویات دی جا رہی تھیں جو کہ اس جان لیوا وائرس کے خلاف ناکافی ثابت ہوئیں۔
عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سے سبق سیکھتے ہوئے متاثرہ علاقوں میں نگرانی کے نظام کو مزید سخت کر دیا گیا ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی نئی وباء کی بروقت اور درست تشخیص کو یقینی بنایا جا سکے۔ طبی ماہرین نے مقامی سطح پر ڈاکٹروں اور عملے کو مزید تربیت دینے پر بھی زور دیا ہے تاکہ پیچیدہ علامات والے مریضوں کی فوری اسکریننگ کی جا سکے۔