LIVE
Loading Breaking News...

اسرائیل کا غزہ امن منصوبہ مسترد: فلسطینیوں کا ردعمل اور صورتحال

News Image
اسرائیلی وزیراعظم کی جانب سے جنگ کے بعد کے غزہ کے منصوبے کو مسترد کیے جانے کے بعد فلسطینی عوام میں مایوسی اور غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اس اعلان نے خطے میں مستقل امن اور تعمیر نو کی امیدوں کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔
بیت المقدس: اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتھن ہاہ کی جانب سے غزہ کی پٹی کے حوالے سے پیش کیے جانے والے جنگ کے بعد کے منصوبے کو کھلے عام مسترد کرنے کے بعد غزہ کے محصور اور پریشان حال فلسطینیوں میں شدید مایوسی پھیل گئی ہے۔ مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ اس تازہ ترین انکار نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ موجودہ بحران کا کوئی پائیدار اور پرامن حل تلاش کرنے میں شدید رکاوٹیں حائل ہیں۔ فلسطینیوں کا ماننا ہے کہ اسرائیلی جارحیت اور غیر لچکدار رویے کی وجہ سے عام شہریوں کی زندگیاں داؤ پر لگ چکی ہیں اور عالمی برادری اس انسانی المیے پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ واضح رہے کہ اس اعلان سے ان تمام امیدوں اور شکوک و شبہات کو تقویت ملی ہے جن میں مستقل امن کے حصول کے لیے اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا، تباہ حال علاقوں کی تعمیر نو اور بین الاقوامی ضمانتوں کی بات کی جا رہی تھی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے اس قسم کے بیانات خطے میں جاری کشیدگی کو مزید ہوا دے رہے ہیں، جس سے نہ صرف غزہ کے باسیوں کی مصائب میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ پورے خطے کا امن بھی خطرے میں پڑ رہا ہے۔ لاکھوں بے گھر افراد جو پہلے ہی خیموں اور تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے میں زندگی گزار رہے ہیں، اب اپنے مستقبل کے حوالے سے مزید غیر یقینی کا شکار ہیں۔ فلسطینی حلقوں اور مختلف تنظیموں کی طرف سے بھی اس صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اس تباہ کن صورتحال میں اپنے دفاع اور بقا کے لیے کوئی موثر آواز نہیں بچی۔ عالمی رہنماؤں سے بار بار کی اپیلوں کے باوجود زمینی حقائق میں کوئی مثبت تبدیلی رونما نہیں ہو رہی ہے، جس کی وجہ سے عام فلسطینی خود کو بالکل تنہا اور بے سہارا محسوس کر رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس سیاسی ڈیڈ لاک کے کیا اثرات مرتب ہوں گے، اس کا اندازہ لگانا فی الحال مشکل ہے، لیکن غزہ کے مکینوں کے لیے یہ لمحہ انتہائی کٹھن اور آزمائش سے بھرپور ہے۔