LIVE
Loading Breaking News...

فیس بک انگیجمنٹ اور اشتعال انگیزی سے کمائی کرنے والی انڈونیشیائی فیکٹری

News Image
انڈونیشیا میں بیٹھا ایک گروہ فیس بک پر جعلی اور اشتعال انگیز مواد کے ذریعے لاکھوں روپے کما رہا ہے۔ یہ افراد صرف میٹا کے ریونیو شیئرنگ اور انگیجمنٹ سسٹم سے فائدہ اٹھانے کی دوڑ میں شامل ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل ہونے کی دوڑ اور اس کے پیچھے چھپے معاشی محرکات نے دنیا بھر میں ایک نیا کلچر جنم دیا ہے۔ انڈونیشیا میں ایسے کئی گروہ متحرک ہیں جو فیس بک پر انتہائی اشتعال انگیز اور متنازعہ مواد یعنی میمز تیار کرتے ہیں۔ ان کا مقصد صرف اور صرف یہ ہوتا ہے کہ صارفین زیادہ سے زیادہ جذبات کا اظہار کریں، تبصرے کریں اور مواد کو شیئر کریں۔ اس پوری سرگرمی کا مقصد میٹا کے اشتہاری اور انگیجمنٹ کے نظام سے زیادہ سے زیادہ مالی فائدہ حاصل کرنا ہے۔ اس حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق، اس نیٹ ورک کو چلانے والے افراد کو اس بات سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ وہ کس ملک یا خطے کو نشانہ بنا رہے ہیں اور وہاں کے سیاسی حالات یا رہنما کون ہیں۔ ان کا واحد ہدف ایسے موضوعات تلاش کرنا ہوتا ہے جو پلک جھپکتے ہی آن لائن بحث کا طوفان کھڑا کر دیں۔ جب لوگ غصے میں آ کر پوسٹس پر ردعمل ظاہر کرتے ہیں، تو الگورتھم اسے مقبولیت سمجھ کر مزید لوگوں تک پہنچاتا ہے، جس سے ان پیجز کے مالکان کو بھاری پے آؤٹس ملتے ہیں۔ سوشل میڈیا ماہرین نے اس رجحان کو انتہائی خطرناک قرار دیا ہے کیونکہ اس سے دنیا بھر میں غلط معلومات اور نفرت انگیز مواد تیزی سے پھیلتا ہے۔ میٹا کے لیے بھی یہ ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے کہ وہ ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی کیسے کرے جو پلیٹ فارم کے قواعد و ضوابط کی دھجیاں اڑا کر صرف چند پیسوں کے لیے معاشرتی ہم آہنگی کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ دوسری جانب، اس انڈونیشیائی 'میم فیکٹری' جیسے نیٹ ورکس کے خلاف سخت کارروائی کے مطالبات بھی زور پکڑتے جا رہے ہیں تاکہ ڈیجیٹل دنیا کو اس منفی رجحان سے پاک کیا جا سکے۔