Business
ٹورانٹو میں رئیل اسٹیٹ کی گراوٹ: ٹیک ورکر کی مالی صورتحال
ستائیس لاکھ سالانہ کمانے والے سینتیس سالہ ٹیک ورکر جیسن کو ٹورانٹو میں اپنے کونڈو کی قیمت گرنے کے بعد مالیاتی چیلنجز کا سامنا ہے۔ اس کے باوجود، اس نے مختلف اکاؤنٹس میں ایک معقول بچت اور سرمایہ کاری برقرار رکھی ہے۔
ٹورانٹو کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں حالیہ اتار چڑھاؤ نے متوسط طبقے کے ساتھ ساتھ اچھے خاصےمستحکم پیشہ ور افراد کو بھی متاثر کیا ہے۔ ایسا ہی ایک معاملہ ستائیس سالہ جیسن کا سامنے آیا ہے جو ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ ہیں اور سالانہ ایک لاکھ چھیاسٹھ ہزار ڈالر (تقریباً ستائیس لاکھ پاکستانی روپے) کماتے ہیں۔ اس کے باوجود، انہیں اپنے ٹورانٹو والے کونڈو کی قدر میں کمی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس نے ان کی مجموعی سرمایہ کاری کو متاثر کیا ہے۔
مالیاتی تفصیلات کے مطابق، جیسن کے ذمہ اس وقت اٹھارہ ہزار ڈالر کار لیز کی مد میں اور تین لاکھ پچپن ہزار ڈالر کا رہن یعنی مورگیج قرض کی شکل میں واجب الادا ہیں۔ جائیداد کی مارکیٹ ویلیو نیچے آنے کے بعد ان کے اثاثوں میں کچھ دباؤ دیکھا گیا ہے، تاہم ان کی مجموعی مالیاتی پوزیشن مکمل طور پر غیر مستحکم نہیں کہی جا سکتی کیونکہ انہوں نے دیگر سیکٹرز میں بہتر بچت کر رکھی ہے۔
اثاثوں اور بچتوں کے محاذ پر جیسن نے کافی سمجھداری کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان کے پاس ٹیک فری سیونگز اکاؤنٹ میں دو لاکھ پندرہ ہزار ڈالر، رجسٹرڈ ریٹائرمنٹ سیونگز پلان میں دو لاکھ چالیس ہزار ڈالر اور ایک لاگڈ ان ریٹائرمنٹ اکاؤنٹ میں ساٹھ ہزار ڈالر موجود ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کونڈو کی قیمت میں کمی عارضی ہو سکتی ہے لیکن بلند شرح سود اور قرضوں کے بوجھ نے کینیڈا کے پروفیشنلز کیلیے مشکلات بڑھا دی ہیں۔