World
رومانیہ کا اقدام: فضائی حدود کی خلاف ورزی پر روسی سفارتکار ملک بدر
رومانیہ کی حکومت نے ملک کی فضائی حدود کی مسلسل خلاف ورزیوں کے خلاف سخت احتجاج کرتے ہوئے ایک روسی سفارتکار کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دے کر ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔ یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ سفارتی تعلقات میں ایک اور سنگین موڑ کی عکاسی کرتا ہے۔
بخارسٹ: رومانیہ کی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے ایک روسی سفارتکار کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ انتہائی قدم ملک کی فضائی حدود کی بار بار ہونے والی خلاف ورزیوں کے خلاف احتجاجاً اٹھایا گیا ہے۔ حکام کے مطابق، حالیہ مہینوں میں پیش آنے والے متعدد واقعات کے دوران روسی فضائی اثاثوں اور ڈرونز نے مبینہ طور پر رومانیہ کی فضائی حدود کی پامالی کی تھی، جس پر حکومت نے گہری تشویش کا اظہار کیا تھا۔ رومانیہ جو کہ نیٹو (NATO) کا رکن ملک ہے، اس طرح کی خلاف ورزیوں کو اپنی قومی سلامتی کے لیے ایک براہ راست خطرہ سمجھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ اس سفارتکار کو 'پرسونا نان گراٹا' (ناپسندیدہ شخصیت) قرار دیا گیا ہے اور اسے ایک مقررہ وقت کے اندر رومانیہ کی حدود چھوڑنا ہوں گی۔ یہ فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ دوسری جانب، بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام خطے میں سکیورٹی خدات کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے اور نیٹو کے اتحادی ممالک اس طرح کے معاملات پر انتہائی سخت مؤقف اختیار کر رہے ہیں۔ رومانیہ کے اس فیصلے پر روس کی طرف سے بھی فوری ردعمل یا ممکنہ جوابی اقدامات کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، تاہم بخارسٹ میں حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ملکی خودمختاری کا دفاع ان کی اولین ترجیح ہے۔ اس واقعے سے ایک بار پھر یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یوکرائن تنازع کے بعد سے مشرقی یورپ کے ممالک کی فضائی حدود کتنی حساس ہو چکی ہے اور اتحادی ممالک کسی بھی بیرونی مداخلت پر فوری اور سخت سفارتی ردعمل دینے کے لیے پرعزم ہیں۔