LIVE
Loading Breaking News...

سאוویت یونین کا زوال: کمیونسٹ سے مسیحا بننے والی خاتون کی کہانی

News Image
سאוویت یونین کے زوال کے بعد روس میں ایک عجیب و غریب واقعہ پیش آیا جب ایک خاتون نے کمیونسٹ پس منظر سے نکل کر خود کو مسیحا ظاہر کیا اور سینکڑوں لوگوں کو کیف لے گئی۔ اس تحریک نے نناوے کی دہائی کے سماجی اور معاشی بحران کے دوران جنم لیا تھا۔
سאוویت یونین کے انہدام کے بعد کا دور لاکھوں افراد کے لیے شدید ذہنی اور معاشی بحران کا دور تھا۔ اس پرآشوب دور میں جہاں لوگ اپنی روزمرہ کی زندگی کو سنبھالنے کی کوشش کر رہے تھے، وہیں کئی غیر معمولی اور پراسرار شخصیات بھی ابھر کر سامنے آئیں۔ نوے کی دہائی کا یہ وہ ہیجان خیز دور تھا جب معاشرتی اقدار بدل رہی تھیں اور لوگ کسی نہ کسی سہارے کی تلاش میں تھے۔ ایسے ہی حالات میں ایک ایسی خاتون کی کہانی بھی سامنے آئی جو کبھی ایک پرجوش کمیونسٹ کارکن ہوا کرتی تھی، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ اس نے خود کو ایک مذہبی مسیحا کے طور پر پیش کرنا شروع کر دیا۔ اس نے اپنے گرد عقیدت مندوں کا ایک حلقہ تیار کیا اور سینکڑوں افراد کو ان کے گھر بار چھوڑنے پر آمادہ کیا۔ اس پراسرار مہم کے دوران یہ تمام لوگ کیف کی طرف روانہ ہوئے، جہاں ان کا مقصد دنیا کے متوقع خاتمے یعنی قیامت کا سامنا کرنا تھا۔ اس سفر اور اس کے مقاصد نے اس وقت کے معاشرے میں ہلچل مچا دی تھی اور لوگ یہ جاننے کے لیے بے تاب تھے کہ آخر یہ سب کیسے ممکن ہوا۔ ماہرینِ نفسیات اور مؤرخین کے مطابق، سوویت یونین کے اچانک زوال نے عام انسانوں کو شدید نفسیاتی صدمے سے دوچار کیا تھا۔ ریاست کی جانب سے فراہم کردہ تحفظ کا احساس ختم ہو چکا تھا اور لوگ مستقبل کے حوالے سے شدید غیر یقینی کا شکار تھے۔ اس خلا کو پر کرنے کے لیے مختلف فریب کار اور خود ساختہ مسیحا سامنے آئے جنہوں نے لوگوں کی اس کمزوری کا فائدہ اٹھایا۔ اس خاتون نے بھی انہی نفسیاتی کمزوریوں کو اپنے پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیا اور لوگوں کو یہ یقین دلایا کہ دنیا کا خاتمہ قریب ہے اور صرف وہی انہیں نجات دلوا سکتی ہے۔ اس واقعے نے اس دور کے سماجی تانے بانے پر گہرے اثرات چھوڑے اور یہ دکھایا کہ کس طرح مایوسی کے عالم میں انسان غیر منطقی عقائد کا شکار ہو جاتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ تحریک ختم ہو گئی اور اس کے اثرات بھی مدہم پڑ گئے، لیکن نوے کی دہائی کے اس عجیب و غریب واقعے کو آج بھی تاریخ کے انوکھے ابواب میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ کہانی نہ صرف ایک خاتون کے اقتدار اور اثر و رسوخ کی ہوس کو ظاہر کرتی ہے بلکہ اس بڑے اجتماعی المیے کی عکاسی بھی کرتی ہے جو سوویت یونین کے خاتمے کے بعد خطے کے باسیوں کو جھیلنا پڑا۔