LIVE
Loading Breaking News...

انگلینڈ میں خشک سالی کا بحران، دو تہائی سے زائد رقبہ متاثر

News Image
انگلینڈ کے بیشتر علاقے شدید خشک سالی کی زد میں آ گئے ہیں جہاں پانی کی قلت کے باعث حکام کو تشویش لاحق ہے۔ متعدد نئے ریجنز کو بھی باضابطہ طور پر خشک سالی کے زمرے میں شامل کر لیا گیا ہے۔
برطانیہ کے اہم ملک انگلینڈ کا دو تہائی سے زائد حصہ اب باضابطہ طور پر خشک سالی کا شکار ہو چکا ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں اور طویل عرصے تک بارش نہ ہونے کی وجہ سے ملک کے آبی ذخائر اور ندی نالوں میں پانی کی سطح خطرناک حد تک گر چکی ہے، جس سے عام زندگی اور زراعت پر بھی برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ حکام کی جانب سے فراہم کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، انگلینڈ کے کئی نئے اور اہم خطے بھی اب خشک سالی کی زد میں آ گئے ہیں۔ نئے علاقوں میں جو اب خشک سالی کے زمرے میں داخل ہو چکے ہیں، ان میں ایسٹ مڈلینڈز، لنکن شائر اور نارتھمپٹن شائر کے علاوہ کینٹ، ایسٹ سسیکس، سولنٹ اور ساؤتھ ڈاؤنز کے علاقے بھی شامل ہیں۔ ان تمام مقامات پر پانی کے وسائل تیزی سے کم ہو رہے ہیں، اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے شہریوں کو پانی کے استعمال میں احتیاط برتنے کی سخت ہدایات جاری کی جا رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آنے والے دنوں میں تسلی بخش بارشیں نہ ہوئیں تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔ حکومتی اداروں اور ماحولیاتی ایجنسیوں کی جانب سے صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ پانی کی فراہمی کو ممکنہ حد تک برقرار رکھا جا سکے۔ زراعت کے شعبے سے وابستہ افراد کو بھی فصلوں کی آبپاشی کے حوالے سے مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ پانی کی قلت نے کسانوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ پانی کے ضیاع سے گریز کریں اور بحران سے نمٹنے کے لیے انتظامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔