Health
ایبولا وائرس آؤٹ بریک: ڈبلیو ایچ او کی تشویشناک وارننگ
عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ ایبولا وائرس کے انفیکشن کی شرح خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے اور حکام اس بیماری پر قابو پانے میں شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ وائرس فی الحال ردعمل کے اقدامات سے ایک قدم آگے ہے۔
عالمی ادارہ صحت (WHO) نے ایبولا وائرس کے تیزی سے پھیلتے ہوئے مرض کے حوالے سے ایک انتہائی تشویشناک بیان جاری کیا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں طبی عملہ اور متعلقہ حکام وائرس کے پیچھے دوڑ رہے ہیں جبکہ مہلک وائرس خود ان سے ایک قدم آگے نکل چکا ہے۔ اس صورتحال نے بین الاقوامی سطح پر طبی ماہرین کی نیندیں اڑا دی ہیں کیونکہ وبا کو قابو میں لانے کی تمام تر کوششیں بظاہر ناکافی ثابت ہو رہی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اس وقت متاثرہ علاقوں میں انفیکشن کی شرح انتہائی بلند سطح پر برقرار ہے۔ اس بلند شرح نے اس خدچے کو مزید تقویت دی ہے کہ مقامی اور بین الاقوامی انتظامیہ اس بیماری کے پھیلاؤ کا بروقت ادراک کرنے اور اس پر مؤثر انداز میں گرفت مضبوط کرنے میں شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ وائرس کی رفتار اتنی تیز ہے کہ روایتی طبی اور حفاظتی اقدامات بھی فی الحال ناکافی دکھائی دے رہے ہیں، جس سے متاثرہ آبادی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
ڈبلیو ایچ او کے اعلیٰ حکام نے عالمی برادری اور متاثرہ ممالک کے ذمہ داران پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنی حکمت عملی میں تبدیلی لائیں۔ روایتی طریقہ کار کے بجائے اب ہنگامی بنیادوں پر وسائل کی فراہمی اور فوری رسپانس ٹیموں کی تعیناتی ناگزیر ہو چکی ہے تاکہ وائرس کے مزید پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ بصورت دیگر، یہ وبا مزید وسیع علاقے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے جس کے نتائج انتہائی تباہ کن ہو سکتے ہیں۔