LIVE
Loading Breaking News...

نائجیریا امیگریشن سروس کی جانب سے عملے کے لیے نئی ائیرپورٹ ٹریننگ کا آغاز

News Image
نائیجیریا امیگریشن سروس نے دارالحکومت ابوجا کے بین الاقوامی ائیرپورٹ کمانڈ کے عملے کے لیے دو ہفتے کی استعداد کار بڑھانے کی تربیت کامیابی سے مکمل کر لی ہے۔ یہ تربیتی سلسلہ ملک بھر کے ائیرپورٹس پر خدمات کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے شروع کیے گئے نئے سلسلے کی پہلی کڑی ہے۔
ابوجا سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق نئی دہلی یا دیگر بین الاقوامی اداروں کی طرح نائجیریا امیگریشن سروس (NIS) نے بھی اپنے عملے کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ سروس نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے نامدی ازیکیوی انٹرنیشنل ائیرپورٹ کمانڈ ابوجا کے اہلکاروں کے لیے دو ہفتوں پر مشتمل انتہائی جامع صلاحیت سازی کی تربیت کا کامیابی سے اختتام کر لیا ہے۔ یہ پروگرام اس وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے جو ملک کے تمام اہم فضائی اڈوں پر مسافروں کو فراہم کی جانے والی خدمات کے معیار کو بین الاقوامی سطح پر لانے کے لیے مرتب کی گئی ہے۔ حکام کے مطابق، یہ تربیتی سیشن اس سلسلے کا پہلا مرحلہ ہے جسے خاص طور پر ائیرپورٹ کے فارمیٹ اور وہاں کے ماحول کی ضروریات کو مدنظر رکھ کر ڈیزائن کیا گیا ہے۔ تربیتی کورس میں عملے کو جدید ترین پیشہ ورانہ مہارتوں، مسافروں کے ساتھ بہترین رویے، سکیورٹی کے تقاضوں اور ائیرپورٹ پر درپیش روزمرہ کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے خصوصی طریقے سکھائے گئے۔ نائجیریا امیگریشن سروس کی قیادت کا ماننا ہے کہ اس طرح کے پروگرامز سے نہ صرف عملے کے اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ ملک کی مجموعی شبیہ بھی عالمی سطح پر بہتر ہوتی ہے۔ تربیتی پروگرام کے اختتامی تقریب میں اعلیٰ حکام نے شرکت کی اور کامیاب ہونے والے اہلکاروں میں اسناد تقسیم کیں۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سینئر افسران نے اس بات پر زور دیا کہ ائیرپورٹ کسی بھی ملک کا چہرہ ہوتے ہیں اور وہاں تعینات عملے کا پیشہ ورانہ رویہ ملک کی پہلی تاثر قائم کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امیگریشن سروس نے اپنے عملے کی تربیت کو اپنی ترجیحات میں سرفہرست رکھا ہے تاکہ مسافروں کو تیز رفتار اور معیاری خدمات فراہم کی جا سکیں۔ یہ سلسلہ یہیں ختم نہیں ہوگا بلکہ نائجیریا امیگریشن سروس کا ارادہ ہے کہ اس طرح کے تربیتی کورسز کو ملک کے دیگر تمام بڑے ائیرپورٹس تک پھیلایا جائے۔ اس سے ملک بھر میں امیگریشن کے عملے کی کارکردگی میں یکسانیت آئے گی اور مسافروں کو درپیش مسائل میں نمایاں کمی واقع ہوگی۔ اس اقدام کو ملک کے انتظامی حلقوں میں بے حد سراہا جا رہا ہے اور اسے پیشہ ورانہ بہتری کی جانب ایک تاریخی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔