LIVE
Loading Breaking News...

تھری ڈی پرنٹڈ کنکریٹ سے ماحول دوست تعمیرات کا آغاز

News Image
میساچیوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کے محققین نے تھری ڈی پرنٹنگ کی ایک نئی تکنیک تیار کی ہے جو تعمیراتی اخراجات اور مواد کے ضیاع میں کمی لائے گی۔ یہ جدید طریقہ کار روایتی تعمیرات کے مقابلے میں ماحول کو نقصان پہنچانے والی گیسوں کے اخراج کو نمایاں طور پر کم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
میساچیوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) کے ماہرین نے تعمیراتی صنعت میں ایک انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے تھری ڈی پرنٹنگ کی نئی تکنیک متعارف کرائی ہے۔ روایتی تعمیراتی طریقہ کار دنیا بھر میں کاربن کے اخراج اور ماحولیاتی آلودگی کا ایک بہت بڑا سبب مانے جاتے ہیں، جن کی وجہ سے کرہ ارض کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ اس نئے تکنیکی طریقۂ کار سے نہ صرف تعمیراتی لاگت میں نمایاں کمی لائی جا سکے گی بلکہ مواد کا بے دریغ ضیاع بھی روکا جا سکے گا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کی بدولت تعمیراتی ڈھانچے کو انتہائی درستگی اور کم وسائل کے ساتھ تیار کیا جا سکتا ہے۔ نئی تحقیق کے مطابق اس طریقے میں کنکریٹ کے استعمال کو اس انداز میں بہتر بنایا گیا ہے کہ عمارتیں زیادہ مضبوط اور پائیدار بنتی ہیں جب کہ اس پر آنے والا مجموعی خرچ بھی کم ہو جاتا ہے۔ عام طور پر کنکریٹ کی تیاری اور ترسیل کے دوران ماحول میں بڑی مقدار میں گرین ہاؤس گیسیں خارج ہوتی ہیں جو عالمی حد حرارت میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔ ایم آئی ٹی کی ٹیم کی جانب سے تیار کردہ اس جدید تکنیک سے اس عمل کو کافی حد تک ماحول دوست بنایا جا سکتا ہے، کیونکہ اس میں صرف اتنی ہی مواد کی تہہ چڑھائی جاتی ہے جتنی ڈھانچے کی مضبوطی کے لیے اصل میں درکار ہوتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی آنے والے برسوں میں پوری تعمیراتی صنعت کا نقشہ بدل کر رکھ دے گی۔ اس وقت دنیا بھر میں ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے ایسے اقدامات کی شدید ضرورت ہے جو پائیدار اور موثر ہوں۔ تھری ڈی پرنٹنگ کے اس نئے انداز سے نہ صرف رہائشی منصوبے بلکہ تجارتی عمارات بھی کم وقت اور کم لاگت میں تیار کی جا سکیں گی۔ تحقیقی ٹیم کو امید ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو تجارتی پیمانے پر جلد ہی عام کیا جائے گا تاکہ دنیا بھر کے بلڈرز اور انجینئرز اس سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔