LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان بزنس کونسل: خسارے کے سرکاری اداروں کی نجکاری کا مطالبہ

News Image
پاکستان بزنس کونسل کے نو منتخب چیئرمین زیاد بشیر نے ملک بھر کے خسارے میں جانے والے سرکاری اداروں کو جنگی بنیادوں پر بارہ ماہ کے اندر فروخت کرنے پر زور دیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ ان اداروں کے مسلسل نقصانات ملکی معیشت پر ایک بہت بڑا بوجھ بن چکے ہیں۔
پاکستان بزنس کونسل (پی بی سی) کے نئے منتخب چیئرمین زیاد بشیر نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ ملک بھر کے تمام خسارے میں جانے والے سرکاری اداروں کو ہنگامی بنیادوں پر آئندہ بارہ ماہ کے اندر نجکاری کے ذریعے نجی شعبے کے حوالے کر دیں۔ ان کا یہ مطالبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب قومی معیشت کو مالیاتی چیلنجز کا سامنا ہے اور سرکاری اداروں کے مالیاتی نقصانات قومی خزانے پر بھاری پڑ رہے ہیں۔ زیاد بشیر نے حال ہی میں پاکستان بزنس کونسل کے چیئرمین کا منصب سنبھالا ہے اور اپنے عہدے کا چارج سنبھالتے ہی انہوں نے ملکی معیشت کی بہتری کے لیے کلیدی اصلاحات پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ تاخیر کی وجہ سے ان اداروں کی قدر میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے جو کہ قومی مفاد میں بالکل نہیں۔ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے پی بی سی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ حکومت کو کاروبار چلانے کے بجائے صرف پالیسی سازی اور ریگولیشن پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ نجی شعبہ ملک میں ترقی کی رفتار کو تیز کرنے اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ حکومت کی جانب سے متعدد بار سرکاری اداروں کی تنظیم نو اور نجکاری کے وعدے کیے گئے ہیں لیکن مختلف انتظامی اور سیاسی رکاوٹوں کی وجہ سے اس عمل میں خاطر خواہ سستی دیکھی گئی ہے۔ کاروباری برادری اور معاشی ماہرین طویل عرصے سے یہ مطالبہ کرتے آ رہے ہیں کہ ان اداروں کو فوری طور پر نجی تحویل میں دیا جائے تاکہ قومی وسائل کا ضیاع روکا جا سکے۔ زیاد بشیر نے مزید کہا کہ اگر تمام خسارے والے اداروں کو طے شدہ مدت یعنی بارہ ماہ کے اندر اف لوڈ کر دیا جائے تو اس سے نہ صرف سالانہ اربوں روپے کے نقصانات سے نجات ملے گی بلکہ حاصل ہونے والی رقم کو ملک میں ترقیاتی اور فلاحی کاموں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اس عمل میں شفافیت کو یقینی بنایا جانا چاہیے تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو سکے۔ پاکستان بزنس کونسل کا یہ تازہ ترین مطالبہ ملک میں معاشی اصلاحات کے حوالے سے جاری بحث میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے اور اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومتی حلقے اس تجاویز پر کیا ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔