Business
عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں اضافہ، نئے رجحانات
عالمی سطح پر معاشی غیر یقینی صورتحال اور امریکی روزگار کے کمزور اعداد و شمار کی وجہ سے سونے کی قیمتوں میں تیزی ریکارڈ کی گئی ہے۔ سرمایہ کار اب آئندہ آنے والے افراط زر کے اعداد و شمار پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں سونے کی قیمتوں نے ایک بار پھر اوپر کی طرف سفر شروع کر دیا ہے کیونکہ دنیا بھر میں معاشی غیر یقینی صورتحال بدستور برقرار ہے۔ امریکی روزگار کے کمزور اعداد و شمار سامنے آنے کے بعد سونے کی قیمتوں نے اپنے نقصانات کا ازالہ کرتے ہوئے نمایاں بہتری دکھائی ہے اور اس وقت قیمتی دھات دو ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب ٹریڈ کر رہی ہے۔ سرمایہ کار اور تجارتی ادارے اس صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ آئندہ کے معاشی رجحانات کا اندازہ لگایا جا سکے۔
دوسری جانب، مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افراط زر یعنی سی پی آئی کے آنے والے اعداد و شمار سونے کی آئندہ سمت کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ اگرچہ کچھ تکنیکی مقامات پر سونے کے خریدار محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں، تاہم مشرق وسطیٰ بالخصوص ایران سے جڑے جغرافیائی سیاسی خطرات اور وفاقی ریزرو کی شرح سود سے متعلق توقعات اب بھی مارکیٹ میں ہلچل مچا رہی ہیں۔ امریکی ڈالر کی پوزیشن اور دیگر عالمی عوامل بھی سرمایہ کاروں کو سونے کی طرف راغب کرنے یا ہچکچاہٹ کا شکار کرنے میں برابر کے شریک ہیں۔
ماہرینِ معاشیات کا ماننا ہے کہ موجودہ عالمی ماحول میں سونے کو ایک محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے منڈی میں تیزی کا رجحان یا بُلش کیس مضبوط ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اگرچہ قیمتیں کبھی کبھار معمولی دباؤ کا شکار ہو کر نیچے کی طرف بھی رجحان دکھاتی ہیں، لیکن مجموعی طور پر عالمی سطح پر موجود عدم استحکام قیمتی دھات کی بنیادی سپورٹ لائن کو مضبوط رکھے ہوئے ہے۔ سرمایہ کار آنے والے دنوں میں مرکزی بینکوں کے فیصلوں اور عالمی اقتصادی رپورٹس کے منتظر ہیں تاکہ اس بنیاد پر اپنی اگلی تجارتی حکمت عملی طے کی جا سکے۔