World
روسی عدالت نے واحد جنگ مخالف پارٹی کو انتخابات سے باہر کر دیا
روس کی واحد لبرل اور جنگ مخالف سیاسی جماعت کو اگلے ماہ ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا گیا ہے۔ ماسکو کی ایک عدالت نے اس حوالے سے باضابطہ فیصلہ صادر کر دیا ہے جس کے بعد حزب اختلاف کو شدید دھکا لگا ہے۔
ماسکو کی ایک عدالت نے روس کی واحد لبرل اور جنگ مخالف سیاسی جماعت کو اگلے ماہ متوقع پارلیمانی انتخابات میں حصہ لینے سے باضابطہ طور پر روک دیا ہے۔ اس عدالت کے فیصلے کے بعد ملکی سیاسی منظر نامے میں ایک ہلچل مچ گئی ہے اور انسانی حقوق کے حامیوں سمیت اپوزیشن حلقوں کی طرف سے شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں سیاسی سرگرمیوں پر پہلے ہی کڑی نظر رکھی جا رہی ہے اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھانے والوں کے لیے مشکلات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ عدالتی احکامات کے نتیجے میں اب اس پارٹی کے امیدوار آئندہ انتخابات میں ووٹرز کے سامنے نہیں آ سکیں گے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، اس فیصلے سے روس کے اندر موجود جمہوری اور حزب اختلاف کی آوازیں مزید کمزور ہو جائیں گی، کیونکہ یہ جماعت واحد پلیٹ فارم تھی جو کھل کر حکومت کی جنگی پالیسیوں کی مخالفت کر رہی تھی۔ انتخابات کے عمل سے اس جماعت کی نااہلی نے ملک کے اندر سیاسی و جمہوری عمل کی شفافیت پر ایک بار پھر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ دوسری جانب حکومتی حلقوں کی طرف سے اس فیصلے پر روایتی مؤقف اپنایا گیا ہے، تاہم مبصرین کا ماننا ہے کہ اس سے ملک میں سیاسی تنوع کو شدید نقصان پہنچے گا اور عوام کے پاس متبادل قیادت کا انتخاب کرنے کے مواقع انتہائی محدود ہو جائیں گے۔