LIVE
Loading Breaking News...

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھیں

News Image
حکومت نے بین الاقوامی مارکیٹ میں قیمتوں کے اشاریے جاری نہ ہونے کی وجہ سے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق 11 اگست سے ہوگا اور یہ فیصلہ پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹیفیکیشن کے تحت کیا گیا ہے۔
حکومت نے پیر کے روز پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی قیمتوں کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ 10 اگست کو پلیٹس (Platts) کی قیمتیں شایع نہیں ہو پائی تھیں۔ اس فیصلے کے بعد پیٹرول 327.62 روپے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل 380.86 روپے فی لیٹر کی سطح پر فروخت ہوتا رہے گا۔ پیٹرولیم ڈویژن کے جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق، ان برقرار رکھی گئی قیمتوں کا اطلاق 11 اگست سے ہوگا۔ حکومت کی جانب سے پیٹرول پر مجموعی طور پر 114 روپے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر ٹیکسز اور ڈیوٹیز وصول کیے جا رہے ہیں۔ یاد رہے کہ اس سے قبل ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 3 اپریل کو اپنی بلند ترین سطح 520.35 روپے تک پہنچ گئی تھی، جبکہ 28 فروری کو امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کے بعد اس کی قیمت میں اضافے کا سلسلہ شروع ہوا تھا جب یہ 281 روپے فی لیٹر تھی۔ اسی طرح پیٹرول کی قیمت بھی مارچ کے پہلے ہفتے میں 266 روپے سے بڑھ کر 3 اپریل کو 458.41 روپے کی بلند ترین سطح پر چلی گئی تھی۔ پیٹرولیم وزیر علی پرویز ملک نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ بین الاقوامی منڈی میں ہونے والی تبدیلیوں اور خطے کی صورتحال کے پیش نظر اب ایندھن کی قیمتوں کا تعین روزانہ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ حکومت نے مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث تیل کی ممکنہ سپلائی میں تعطل کے پیش نظر مارچ کے اوائل سے ایندھن کی قیمتوں میں ہفتہ وار نظرثانی کا سلسلہ بھی شروع کیا تھا، اور اپریل میں شہریوں کو ہدف شدہ ریلیف دینے کے لیے اقدامات کا اعلان بھی کیا گیا تھا۔ روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کے تعین کے اس طریقہ کار کو آل پاکستان ڈیلرز ایسوسی ایشن کی جانب سے مسترد کیا جا چکا ہے اور ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ وہ اس پر احتجاجی لائحہ عمل پر غور کرے گی۔ واضح رہے کہ پیٹرول بنیادی طور پر نجی ٹرانسپورٹ، چھوٹی گاڑیوں، رکشوں اور موٹر سائیکلوں میں استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کی قیمتوں میں ردوبدل براہ راست متوسط اور نچلے متوسط طبقے کو متاثر کرتا ہے۔ دوسری جانب ڈیزل بھاری نقل و حمل کے شعبے، پاور پلانٹس اور بڑے جنریٹرز میں استعمال ہوتا ہے جس سے عام آدمی کی معیشت بھی جڑی ہوئی ہے۔ پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل ملکی محصولات کا ایک بڑا ذریعہ ہیں اور ان کی ماہانہ فروخت سات لاکھ سے آٹھ لاکھ ٹن کے درمیان رہتی ہے۔