Technology
بگ ٹیک اور اے آئی کے اخراجات: سرمایہ کاروں کا ردعمل اور مارکیٹ کا حال
امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی جانب سے مصنوعی ذہانت پر کیے جانے والے اربوں ڈالر کے اخراجات اب سرمایہ کاروں کے لیے تشویش کا باعث بن رہے ہیں۔ مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی بے چینی کی وجہ سے اب روایتی معاہدہ کمزور پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔
امریکی ٹیکنالوجی کی بڑی کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کے درمیان طویل عرصے سے ایک غیر تحریری معاہدہ چلا آ رہا تھا جس کے تحت کمپنیاں مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی پر بے دریغ خرچ کر سکتی تھیں اور بدلے میں شیئر مارکیٹ ان کی بڑھتی ہوئی آمدنی کی بنیاد پر انعام دیتی تھی۔ لیکن اب یہ صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور حالیہ مالیاتی رپورٹس کے بعد مارکیٹ میں ایک عجیب سی بغوات اور بے چینی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ الفابیٹ انکارپوریشن اور دیگر بڑی کارپوریشنز کی جانب سے پیش کردہ اعداد و شمار سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سرمایہ کار اب مزید طویل المدتی وعدوں پر اکتفا کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ماہرین کے مطابق، حصص یافتگان اب اس بات کے متقاضی ہیں کہ اے آئی کی اس بھاری سرمایہ کاری کا فوری اور ٹھوس مالیاتی منافع نظر آنا چاہیے۔ جب تک کمپنیاں ان خطیر رقموں کے نتائج نفع کی صورت میں نہیں دکھا سکتیں، اس وقت تک مارکیٹ کا یہ دباؤ برقرار رہنے کا قوی امکان ہے۔ ٹیکنالوجی سیکٹر میں جاری اس کھینچ تان نے وال اسٹریٹ کے ماہرین کو بھی سوچ میں ڈال دیا ہے کہ آیا یہ ٹیکنالوجی کا سنہرا دور ہے یا پھر ایک ایسا بلبلہ ہے جو پھٹنے کے قریب ہے۔ دوسری جانب، کمپنیوں کے سربراہان کا اصرار ہے کہ یہ سرمایہ کاری مستقبل کی بقا اور کامیابی کے لیے انتہائی ناگزیر ہے، کیونکہ جو ادارے اس دوڑ میں پیچھے رہ جائیں گے وہ آنے والے وقت میں مارکیٹ سے باہر ہو جائیں گے۔ اس کشمکش کے دوران عام سرمایہ کاروں کے لیے اپنے پورٹ فولیو کو سنبھالنا مشکل ہوتا جا رہا ہے اور وہ ہر نئی سہ ماہی رپورٹ کے ساتھ احتیاط برت رہے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا انتہائی دلچسپ ہوگا کہ آیا یہ بڑی کمپنیاں اپنے اخراجات میں کمی لاتی ہیں یا پھر سرمایہ کاروں کو قائل کرنے کے لیے کوئی نیا لائحہ عمل تیار کرتی ہیں۔