World
بھارت میں امتحانات کے نظام کی تبدیلی کے لیے طلباء کا احتجاج اور پولیس کارروائی
بھارت میں امتحانات کے نظام میں اصلاحات اور شفافیت کا مطالبہ کرنے والے نوجوان طلباء کے پرامن احتجاج پر پولیس نے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا ہے۔ طلباء کی جانب سے ریاستی اسمبلی کی طرف مارچ اور جے پی ایس سی امتحان میں مبینہ گڑبڑ کے خلاف شدید احتجاج کیا جا رہا ہے۔
بھارت میں امتحانات کے نظام میں جامع اصلاحات اور شفافیت کا مطالبہ کرنے والے نوجوان طلباء کے احتجاج پر پولیس نے شدید طاقت کا استعمال کیا ہے۔ ملک کے مختلف حصوں خصوصاً جھارکھنڈ میں طلبا نے امتحانی نظام میں مبینہ بدعنوانیوں اور سست روی کے خلاف سڑکوں پر نکل کر زبردست احتجاجی مظاہرے کیے اور ریاستی اسمبلی کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کی۔ اطلاعات کے مطابق پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے چھوڑے اور لاٹھی چارج کا بھی بے دریغ استعمال کیا، جس کے نتیجے میں کئی نوجوانوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ طلباء کا مؤقف ہے کہ سرکاری امتحانات کے انعقاد اور نتائج کے اعلان میں سنگین نوعیت کی بے قاعدگیاں پائی جاتی ہیں جس سے ان کا مستقبل تاریک ہو رہا ہے۔ اس دوران انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے جے پی ایس سی امتحان میں مبینہ گھپلوں اور اسکینڈل کے حوالے سے باضابطہ طور پر مقدمہ درج کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔ طلباء رہنماؤں کا کہنا ہے کہ جب تک امتحانی نظام کو مکمل طور پر شفاف نہیں بنایا جاتا اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی نہیں کی جاتی، ان کا احتجاج پرامن طریقے سے جاری رہے گا۔ دوسری جانب پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مظاہرین نے قانون ہاتھ میں لینے کی کوشش کی اور سیکورٹی بیریکیڈز توڑنے کی کوشش کی جس کی وجہ سے انہیں منتشر کرنے کے لیے یہ اقدامات کرنا پڑے۔ ملک بھر میں اس واقعے کے بعد طلباء تنظیموں میں شدید غم و غصہ پایا جا رہا ہے اور حکومت سے فوری طور پر طلباء کے مطالبات تسلیم کرنے کا پرزور مطالبہ کیا جا رہا ہے۔