Business
آبنائے ہرمز کی بندش سے تیل کی قیمتوں میں اچھال اور وال اسٹریٹ پر دباؤ
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند رکھنے کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں اسی ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔ اس صورتحال نے وال اسٹریٹ کو شدید دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے جبکہ سرمایہ کاروں کی توجہ مہنگائی کے نئے اعداد و شمار پر مرکوز ہے۔
عالمی توانائی کی منڈیوں میں ایک بار پھر شدید بے یقینی اور تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ ایران نے تاحکمِ ثانی اہم ترین تجارتی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو بند رکھنے کا دوٹوک اعلان کیا ہے۔ اس اعلان کے بعد بین الاقوامی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے، اور امریکی تیل کی قیمت اسی ڈالر فی بیرل کی سطح تک پہنچ گئی ہے۔ اس بحران نے دنیا بھر کے مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاروں کو گہری سوچ میں ڈال دیا ہے کہ آیا واشنگٹن اور تہران کے درمیان اس اہم بحری راستے کی بحالی کے لیے کوئی معاہدہ طے پا سکے گا یا نہیں۔
امریکہ اور ایران کے مابین جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کی خبروں نے ناصرف انرجی سیکٹر کو متاثر کیا ہے بلکہ اس کا براہ راست اثر امریکی حصص بازار یعنی وال اسٹریٹ پر بھی پڑ رہا ہے۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی طویل بندش عالمی سپلائی چین کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے، جس سے دنیا بھر میں مہنگائی کا ایک نیا طوفان آنے کا خدشہ ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اور ایرانی حکام کے درمیان مطالبات اور شرائط کا سلسلہ جاری ہے، مگر ت حال کسی بھی قسم کی سفارتی پیش رفت کے آثار دکھائی نہیں دے رہے۔
اس پوری صورتحال میں سرمایہ کار اور کاروباری حلقے نہایت محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ مہنگائی کے اعداد و شمار پر بھی مارکیٹ کی گہری نظر ہے کیونکہ تیل کی قیمتوں میں ہونے والے اس اچانک اضافے سے افراط زر کی شرح میں مزید تیزی آ سکتی ہے۔ مرکزی بینکوں کے لیے بھی یہ صورتحال ایک بڑا چیلنج بنتی جا رہی ہے کہ وہ بڑھتی ہوئی قیمتوں کو کیسے کنٹرول کریں۔ اگر آنے والے دنوں میں آبنائے ہرمز کے معاملے پر کوئی قابلِ ذکر حل یا سمجھوتہ سامنے نہ آیا، تو عالمی معیشت کو مزید شدید جھٹکوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔