Health
ٹرمپ کا بچوں کی ویکسین اور ایم ایم آر شاٹس محدود کرنے کا حکم
امریکی حکومت نے خسرہ، کنپیڑے اور روبیلا کی مشترکہ ویکسین کو تین الگ الگ خوراکوں میں تقسیم کرنے کی سفارش کی ہے۔ نئے احکامات کے تحت بچوں کی ویکسینیشن کے حوالے سے پالیسیوں میں تبدیلیاں کی جارہی ہیں۔
واشنگٹن: امریکی انتظامیہ نے صحت کے شعبے میں ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے بچوں کی ویکسینیشن سے متعلق نئی ہدایات جاری کی ہیں۔ ذرائع کے مطابق نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایسے انتظامی حکم نامے پر دستخط کیے ہیں جس کا مقصد بچوں کو دی جانے والی روایتی ویکسینز بالخصوص ایم ایم آر (خسرہ، کنپیڑے اور روبیلا) کے شاٹس کو محدود کرنا اور ان میں تبدیلی لانا ہے۔ اس فیصلے نے طبی حلقوں میں نئی بحث کو جنم دے دیا ہے کیونکہ ماہرین صحت اس اقدام کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
نئی سفارشات کے تحت انتظامیہ چاہتی ہے کہ خسرہ، کنپیڑے اور روبیلا کی جو مشترکہ ویکسین ایک ہی وقت میں دی جاتی ہے، اسے تین الگ الگ خوراکوں میں تقسیم کیا جائے۔ اس حکم کے مطابق ان تینوں بیماریوں کے ٹیکے اب ایک ساتھ لگانے کے بجائے الگ الگ دورانیے اور الگ الگ ملاقاتوں میں بچوں کو دیے جائیں گے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس عمل سے بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگوانے کی شرح میں کمی آسکتی ہے جبکہ حامیوں کا مؤقف ہے کہ اس سے طبی تحفظ اور والدین کے اختیارات میں بہتری آئے گی۔
طبی ماہرین اس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ آیا ان ویکسینز کو الگ کرنے سے بچوں کی صحت پر کوئی منفی اثر پڑے گا یا نہیں۔ ماضی میں طبی اداروں کی جانب سے ایم ایم آر کی مشترکہ ویکسین کو انتہائی مؤثر قرار دیا گیا تھا جو بچوں کو خطرناک بیماریوں سے بچاتی ہے۔ تاہم موجودہ انتظامیہ کی جانب سے اس میں تبدیلی لانے کا مقصد حفاظتی اقدامات کو مزید شفاف بنانا بتایਾ جا رہا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں اس پالیسی کے نفاذ سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آئیں گی اور صحت کے حکام اس پر تفصیلی لائحہ عمل جاری کریں گے۔