World
خاتون کی موت اور وزارت خزانہ کا کردار، انکوائری میں اہم انکشاف
انکوائری کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ کلُو موفٹ کی موت سے پہلے وزارت خزانہ کی جانب سے تحریری ضابطہ اخلاق اور تادیبی پالیسی پر عمل نہیں کیا گیا تھا۔ عدالت نے اس معاملے کی مزید تفتیش شروع کر دی ہے تاکہ تمام حقائق کا تعین کیا جا سکے۔
ایک حالیہ انکوائری کے دوران انکشاف ہوا ہے کہ وزارت خزانہ (ٹریژری) مبینہ طور پر ایک خاتون کی موت کے واقعے میں اثر انداز رہی ہے کیونکہ وہاں مناسب تحریری پالیسیوں پر عمل نہیں کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق یہ معاملہ کلُو موفٹ نامی خاتون کی المناک موت سے جڑا ہوا ہے جس کی تحقیقات کے سلسلے میں انکوائری کارروائی جاری ہے۔ عدالت کو بتایا گیا ہے کہ متعلقہ محکمے نے اس افسوسناک واقعے سے قبل اپنے تحریری تادیبی ضوابط اور پالیسیوں کو درست طریقے سے لاگو نہیں کیا تھا۔
ابتدائی سماعت اور گواہوں کے بیانات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اگر وقت پر باقاعدہ اور تحریری پالیسیوں پر عملدرآمد کیا جاتا تو ممکنہ طور پر اس المناک صورتحال سے بچا جا سکتا تھا۔ انکوائری افسران اس بات کی گہرائی سے جانچ پڑتال کر رہے ہیں کہ آیا محکمے کے اندرونی انتظامات اور فیصلوں میں کوئی سنگین غفلت برتی گئی تھی۔ کارروائی کے دوران متعلقہ حکام سے بھی بازپرس کی جا رہی ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ پالیسیوں پر عملدرآمد نہ کرنے کے پیچھے کون سے عوامل کارفرما تھے۔
قانونی ماہرین اور اس کیس سے وابستہ افراد کا ماننا ہے کہ یہ انکوائری آنے والے دنوں میں سرکاری اداروں کے اندر کام کرنے کے طریقہ کار اور ملازمین کے حقوق کے حوالے سے انتہائی اہم ثابت ہوگی۔ عدالت اس بات کا بھی جائزہ لے رہی ہے کہ آیا اس واقعے کے بعد سرکاری محکموں کی طرف سے کوئی احتیاطی تدابیر اختیار کی گئی ہیں یا نہیں۔ مقدمے کی مزید سماعت آئندہ چند روز میں متوقع ہے جہاں مزید اہم گواہان اپنے بیانات قلمبند کروائیں گے۔