LIVE
Loading Breaking News...

روس میں یوکرین جنگ مخالف جماعت پر پارلیمانی انتخابات میں پابندی

News Image
روس میں کریملن نواز قوم پرست جماعت روڈینا کی شکایت پر یابلوکو پارٹی کو الیکشن سے باہر کر دیا گیا ہے۔ یابلوکو واحد سیاسی جماعت تھی جو یوکرین میں جاری جنگ کی کھل کر مخالفت کر رہی تھی۔
ماسکو: روس میں حکومتی حلقوں کی جانب سے سیاسی حزب اختلاف پر دباؤ کا سلسلہ جاری ہے، جہاں یوکرین میں جاری جنگ کی مخالفت کرنے والی واحد سیاسی جماعت یابلوکو کو پارلیمانی انتخابات میں حصہ لینے سے باضابطہ طور پر روک دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کو ملک میں اپوزیشن کی آواز کو مزید کمزور کرنے کی ایک اور کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ کریملن نواز قوم پرست جماعت روڈینا کی جانب سے باضابطہ شکایت درج کروائی گئی تھی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ یابلوکو پارٹی نے انتخابی مہم کے دوران غیر اعلانیہ حمایت حاصل کی ہے، جو کہ ملکی قوانین کے خلاف ہے۔ انتخابی حکام نے اس شکایت کا فوری نوٹس لیتے ہوئے یابلوکو پارٹی کو انتخابی دوڑ سے باہر کرنے کا فیصلہ سنایا۔ یابلوکو جماعت طویل عرصے سے روسی سیاست میں لبرل اور جنگ مخالف نظریات کی حامل رہی ہے اور موجودہ حکومتی پالیسیوں پر کھل کر تنقید کرتی چلی آ رہی ہے۔ اس فیصلے کے بعد سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ روس میں متبادل سیاسی آوازوں کے لیے گنجائش تیزی سے ختم ہوتی جا رہی ہے اور حکومتی پالیسیوں سے اختلاف کرنے والوں کے خلاف شکنجہ مزید کسا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی مبصرین نے بھی اس اقدام پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور اسے جمہوری اقدار کے منافی قرار دیا ہے۔ یابلوکو کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان پر لگائے گئے تمام الزامات بے بنیاد ہیں اور ان کا مقصد صرف جنگ مخالف آواز کو دبانا ہے۔