Politics
نینسی میس کا متنازع بیان، مسلم حکام کو امریکہ کے لیے خطرہ قرار دے دیا
امریکی کانگریس وومن نینسی میس نے مشی گن میں عبدالسید کی فتح کے بعد مسلم حکام کو امریکہ کے لیے خطرہ قرار دے دیا۔ اس بیان پر سی این این کے اینکر عمر جیمینز کے ساتھ ان کی شدید تلخ کلامی ہوئی۔
امریکی سیاست میں اس وقت ایک نیا تنازع کھڑا ہو گیا جب کانگریس وومن نینسی میس نے ایک بار پھر اپنے متنازع اور اسلامو فوبیا پر مبنی بیانات کے ذریعے توجہ حاصل کی۔ یہ سارا معاملہ اس وقت شروع ہوا جب مشی گن میں عبدالسید کی اہم سیاسی فتح سامنے آئی، جس کے بعد نینسی میس نے ایک ٹی وی انٹرویو اور سوشل میڈیا پر مسلم حکام اور رہنماؤں کے حوالے سے سخت تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض مسلم حکام ریاست اور ملک کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں، جس پر امریکی سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی۔ اس متنازع بیان پر سی این این کے معروف صحافی اور رپورٹر عمر جیمینز نے نینسی میس سے براہ راست سوالات کیے اور ان کے ان بیانات کو تعصب پر مبنی قرار دیا۔ انٹرویو کے دوران دونوں کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا اور ماحول کافی کشیدہ ہو گیا۔ عمر جیمینز نے ان سے استفسار کیا کہ کیا محض مذہب کی بنیاد پر کسی منتخب یا نامزد عہدے دار کو شک کی نگاہ سے دیکھنا درست ہے، جبکہ نینسی میس اپنے مؤقف پر ڈٹی رہیں۔ اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی ایک طوفان برپا ہے جہاں انسانی حقوق کی تنظیمیں اور مسلم کمیونٹی کے رہنما نینسی میس کے اس طرزِ عمل کی شدید مذمت کر رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس قسم کے بیانات امریکی معاشرے میں تقسیم کو مزید گہرا کر رہے ہیں اور سیاسی مفادات کے لیے تعصب کو ہوا دی جا رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس تنازع کے امریکی سیاسی منظر نامے پر مزید گہرے اثرات مرتب ہونے کا امکان ظاہر کیا جا रहा ہے۔