Politics
آزاد کشمیر انتخابات: پونچھ ڈویژن میں مسلم لیگ ن کی پوزیشن مستحکم
آزاد جموں و کشمیر میں انتخابات کے تیسرے مرحلے کے دوران پونچھ ڈویژن کے چار حلقوں میں پولنگ سخت سکیورٹی اور دھاندلی کے الزامات کے سائے میں مکمل ہوئی۔ مسلم مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق احمد خان کی شکست کو اس انتخاب کا سب سے بڑا اپ سیٹ قرار دیا جا رہا ہے۔
آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کے تیسرے مرحلے کے دوران پونچھ ڈویژن کے چار حلقوں میں پولنگ سخت سکیورٹی اور کشیدہ ماحول میں منعقد ہوئی۔ غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق مسلم لیگ ن کو کم از کم ایک نشست پر کامیابی حاصل ہونے کی توقع ہے جبکہ مختلف پولنگ اسٹیشنز پر بدنظمی، جھڑپوں اور دھاندلی کے الزامات بھی سامنے آئے۔ اس انتخابی عمل کا سب سے بڑا دھچکا مسلم کانفرنس کے صدر سردار عتیق احمد خان کو ایل اے 14 دھیر کوٹ میں ملنے والی شکست کی صورت میں سامنے آیا، جہاں وہ اور ان کے خاندان کے افراد 1985 سے مسلسل کامیاب ہوتے آئے تھے۔ انہیں عوامی دست و بازو پارٹی کے ساجد اقبال عباسی نے بھاری اکثریت سے شکست دی، جن کی کامیابی کی بڑی وجہ ان کے حلقے میں عوامی فلاح و بہبود کے کام بتائے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب ایل اے 17 حویلی کے حلقے میں وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور اور مسلم لیگ ن کے امیدوار انجینئر چوہدری محسن عزیز کے درمیان کانٹے کا مقابلہ دیکھنے میں آیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق چوہدری محسن عزیز نے نمایاں برتری حاصل کر رکھی تھی تاہم حتمی نتائج کا انتظار کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح ایل اے 15 باغ سینٹرل میں مسلم لیگ ن کے مشتاق احمد منہاس اور پیپلز پارٹی کے سردار ضیاء القمر کے درمیان سخت مقابلہ رہا، جبکہ دیر رات موصول ہونے والے غیر حتمی نتائج کے مطابق پیپلز پارٹی کے امیدوار کو برتری حاصل تھی۔ آئی پی پی کے صدر اور آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس بھی اس دوڑ میں پیچھے رہ گئے۔
انتخابات کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ ن پر سنگین نوعیت کے الزامات عائد کیے اور الزام لگایا کہ مختلف پولنگ اسٹیشنز پر ووٹرز کو روکا گیا اور بیلٹ پیپرز پر غیر قانونی مہریں لگائی گئیں۔ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ انتظامیہ کی جانب سے ان کے پولنگ ایجنٹس کو زبردستی باہر نکالا گیا اور انتخابی عمل کو متنازع بنایا گیا۔ دوسری جانب مسلم لیگ ن نے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی اپنی شکست سے بوکھلا گئی ہے اور ان کے پاس دھاندلی کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔ مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کا عزم ہے کہ وہ اب تک حاصل کردہ نشستوں کی بنیاد پر آزاد کشمیر میں اگلی حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہیں۔
واضح رہے کہ آزاد کشمیر میں انتخابات کا یہ مرحلہ سخت سکیورٹی انتظامات کے تحت منعقد ہوا جہاں الیکشن کمیشن نے امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر بیشتر پولنگ اسٹیشنز کو حساس ترین قرار دیا تھا۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہزاروں اہلکار سکیورٹی کے لیے تعینات کیے گئے تاکہ ووٹرز کو پرامن ماحول فراہم کیا جا سکے۔ الیکشن کمیشن نے سکیورٹی خدشات کے باعث باغ اور سدھنوتی کے چند علاقوں میں پولنگ مؤخر کر دی تھی جبکہ باقی ماندہ نشستوں پر بھی جلد انتخابات کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق حالیہ نتائج آزاد کشمیر کی روایتی سیاسی جماعتوں کی صف بندی میں بڑی تبدیلیوں کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتے ہیں۔