Entertainment
بریٹن اسپیئرز کا پاپارازی کے خلاف سخت ردعمل اور پريز ہلٹن کی معافی
معروف پاپ گلوکارہ بریٹن اسپیئرز نے پاپارازی فوٹوگرافرز کے رویے پر ایک بار پھر برہمی کا اظہار کیا ہے۔ یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب بلاگر پريز ہلٹن نے ماضی کے نامناسب رویے پر گلوکارہ سے عوامی معافی مانگی تھی۔
عالمی شہرت یافتہ امریکی پاپ گلوکارہ بریٹن اسپیئرز نے ایک بار پھر میڈیا کے نمائندوں اور پاپارازی فوٹوگرافرز کے نامناسب رویے پر شدید غصے اور تنقید کا اظہار کیا ہے۔ گلوکارہ کا یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا ہے جب مشہور بلاگر اور میڈیا شخصیت پريز ہلٹن نے ماضی میں بریٹن اسپیئرز کے ساتھ کیے جانے والے نامناسب سلوک اور تضحیک آمیز رویے پر کھل کر عوامی معافی مانگی تھی۔ پريز ہلٹن کی جانب سے معافی کے بعد مداحوں کی طرف سے مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں، تاہم بریٹن اسپیئرز نے اپنے حالیہ بیان میں اس بات پر زور دیا ہے کہ میڈیا اور پاپارازی نے ان کی زندگی کے مشکل ترین دور میں ان کی نجی زندگی کا جو استحصال کیا، اسے فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
بریٹن اسپیئرز نے سوشل میڈیا پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اس بات پر روشنی ڈالی کہ کس طرح پاپارازی کی مستقل نگرانی اور جارحانہ رویے نے ان کی ذہنی صحت اور ذاتی زندگی کو شدید متاثر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کیمروں کی چکاچوند اور ہر وقت پیچھا کرنے والے فوٹوگرافرز کی وجہ سے وہ طویل عرصے تک ذہنی دباؤ کا شکار رہیں۔ گلوکارہ کے مطابق، صرف ایک معافی ماضی کے ان زخموں کو نہیں بھر سکتی جو میڈیا کے بے رحم رویے کی وجہ سے انہیں اور ان کے اہل خانہ کو ملے۔
دوسری جانب، پريز ہلٹن نے اپنی معافی میں اعتراف کیا کہ انہوں نے ماضی میں اپنے بلاگز اور تبصروں میں حد سے تجاوز کیا اور بریٹن اسپیئرز کے مشکل وقت میں ان کا مذاق اڑایا، جس پر انہیں اب شدید ندامت ہے۔ پريز ہلٹن کا کہنا تھا کہ وہ اپنے ان بیانات پر شرمندہ ہیں اور وہ اب ماضی کی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ اس واقعے کے بعد ہالی وڈ میں پاپارازی کلچر اور مشہور شخصیات کی پرائیویسی کے حوالے سے ایک بار پھر سنجیدہ بحث شروع ہو گئی ہے کہ کس طرح میڈیا کی بے جا مداخلت1 معروف فنکاروں کی زندگیوں کو تباہ کرتی ہے۔